خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 162
162 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 11 اپریل 2008 ایسا عمل جس سے تو راضی ہو جائے۔اے اللہ اس سفر کو ہمارے لئے آسان کر دے۔اے اللہ ! اس کی دُوری کو ہمارے لئے لپیٹ دے، اے اللہ تو ہی اس سفر میں اصل ساتھی ہے اور گھر والوں اور مال میں تو ہی اصل جانشین ہے۔اور جب آنحضرت یہ سفر سے لوٹتے تو یہ کلمات ادا کرتے اور یہ الفاظ زیادہ کہتے کہ ہم واپس آنے والے ہیں۔ہم تو بہ کرنے والے ہیں، ہم عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی تعریف بیان کرنے والے ہیں جیسا کہ پہلے روایت میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی چڑھائی پر چڑھتے وقت اللہ اکبر کہتے اور اترتے وقت سبحان اللہ کہتے۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الجہاد - باب ما یقول الرجل اذا سافر حدیث نمبر 2599) ہم بھی آنحضرت ﷺ کی بتائی ہوئی ان دعاؤں کے ساتھ ہی اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان الفاظ کی برکت سے جو اس کے پیارے نبی کے کے منہ سے نکلے، ہمارے سفروں میں بھی آسانی پیدا کر دے۔ان میں برکت ڈالے اور خیریت سے اُن برکات کو ہم سمیٹتے ہوئے واپس لوٹیں۔وہ برکات جو ہمیں ملیں وہ ایسی برکات ہوں جو ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی ہوں اور جن جن ملکوں میں جائیں، جن جن جماعتوں میں جائیں یا جہاں جہاں بھی یہ پروگرام ہو رہے ہیں ، ہر جگہ ان برکات کا اظہار نظر آتا ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن جلد دکھائے جب اس کی توحید کا جھنڈا تمام دنیا میں ہم لہراتا ہوا دیکھیں اور اللہ تعالیٰ کے پیارے اور محسن انسانیت کے حسن کو ہم بڑی شان و شوکت کے ساتھ تمام دنیا میں چمکتا ہوا دیکھیں۔ضمنا میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں جو باقیوں کے لئے تو ضمنا ہے لیکن جرمنی کی لجنہ کے لئے اہم بات ہے اور اس سفر کی وجہ سے مجھے اس کا خیال زیادہ آیا کہ جرمنی کی لجنہ یہ سن کر مزید بے چین ہو گی کہ دنیا میں اس سال جلسے ہو رہے ہیں اور جو بلی کے حوالے سے بڑے اہم جلسے ہیں اور شاید ان سے محروم رہنا پڑے کیونکہ گزشتہ سال ان کے جلسے میں پوری طرح ڈسپلن نہ ہونے کی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اگلے سال تمہارا جلسہ نہ کیا جائے جب تک اپنی اصلاح نہیں کر لیتے۔اس کے بعد مجھے بے شمار خط عورتوں کے، بچیوں کے لڑکیوں کے آئے کہ ہمیں معاف کر دیں آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی بدانتظامی نہیں ہوگی۔بلکہ لجنہ جرمنی کی ہمدردی میں دوسرے ملکوں کی لجنہ کی ممبرات کے خطوط آئے کہ انہیں جلسے سے محروم نہ کریں بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ سب سے پہلے جرمنی کی بجائے پاکستان سے معافی کا خط آیا تھا۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا وہ تو ایک اصلاحی قدم تھا۔لجنہ جرمنی کا نیشنل اجتماع بھی اسی لئے نہیں کیا گیا کہ پہلے چھوٹے پیمانے پر اجتماعات کر کے جلسے کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کریں، عورتوں کو آگاہ کریں۔اور اس کا بڑا مثبت نتیجہ نکلا ہے۔الحمد للہ کہ میری اطلاع کے مطابق وہاں ایک انقلابی تبدیلی اکثریت میں پیدا ہوئی ہے۔مجھے جو خطوط آئے ان میں بھی تو بہ واستغفار کی طرف خاص توجہ تھی اور اخلاص و وفا کا اظہار ایسا تھا کہ آج اس مادی دور میں صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہی نظر آ سکتا ہے کہ