خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 141

141 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم آنحضرت ﷺ کا تو لوگوں کی ہمدردی میں یہ اُسوہ تھا اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں نعوذ باللہ ظلم اور تختی کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔کیا جنگجو فطرت رکھنے والا اپنے آپ کو اس طرح ہلاکت میں ڈالتا ہے؟ کیا انا رکھنے والا اور بدلے لینے والا اپنے پر ظلم کرنے والوں کو اس طرح کھلے دل سے معاف کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ ان عقل کے اندھوں کو آنکھوں کی روشنی عطا فرمائے لیکن ہمارا کام اُسوہ رسول اللہ ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کی بھلائی کے لئے دعا کرنا ہے تا کہ اللہ تعالیٰ نیک فطرتوں کو، بدفطرتوں سے علیحدہ کر دے۔دنیا جس طرح غلاظتوں میں پڑی ہوئی ہے، یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہونا ہے۔لیکن ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے آقا و مطاع ہی ہے کے اسوہ کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کی بھلائی اور بہتری کے لئے دعا کریں۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہم اس نبی کے ماننے والے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ بنا کر بھیجا تھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ (الانبیاء : 108) اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ آیت کا یہ حصہ اس وقت آنحضرت ﷺ پر صادق آتا ہے کہ جب آپ ہر ایک قسم کے خلق سے ہدایت کو پیش کرتے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے اخلاق ،صبر ، نرمی اور نیز مار، ہر ایک طرح سے اصلاح کے کام کو پورا کیا اور لوگوں کو خدا کی طرف توجہ دلائی۔مال دینے میں، نرمی برتنے میں، عقلی دلائل اور معجزات کے پیش کرنے میں آپ نے کوئی فرق نہیں رکھا۔اصلاح کا ایک طریق مار بھی ہوتا ہے کہ جیسے ماں ایک وقت بچے کو مار سے ڈراتی ہے وہ بھی آپ نے برت لیا تو مار بھی ایک خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ جو آدمی اور کسی طریق سے نہیں سمجھتے خدا اُن کو اس طریق سے سمجھاتا ہے کہ وہ نجات پاویں“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 297) پس آپ مجسم رحم تھے اور آپ کا ہر عمل اور ہر نصیحت اس لئے تھی کہ دنیا خدا تعالیٰ کی رحمت سے حصہ لینے والی بنے۔وہ ہستی جس کا ہر فعل اور عمل دنیا کے لئے رحمت اور ہمدردی ہو، اس ذات کے بارے میں یہ کہنا کہ نعوذ باللہ وہ ظلم کی تعلیم لائے تھے کتنا بڑا ظلم ہے۔اس وقت میں بعض احادیث پیش کرتا ہوں جس میں آپ کی ہمدردی، نرمی اور رفق کے لئے تڑپ کا اظہار ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم آسانی پیدا کر اور تنگی پیدا نہ کرو اور تم بشارت دینے والے بنو، نہ کہ نفرت پیدا کرنے والے۔( بخاری کتاب العلم باب ما کان النبی حوله بالموعظة والعلم حدیث نمبر 69) جب آپ یہ نصیحت فرماتے تھے تو خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل فرماتے تھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا