خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 142

142 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 کہ ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا وہ جب کسی تنگ دست کو دیکھا تو اپنے ملازمین سے کہتا کہ اس سے صرف نظر کرو تا کہ اللہ بھی ہم سے صرف نظر کرے۔( قرض کا زیادہ مطالبہ نہیں کرتا تھا) اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس سے صرف نظر کیا۔( بخاری کتاب البیوع باب من انظر معسر احدیث نمبر 2078) یہ لوگ وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں سے پھر خاص سلوک فرماتا ہے۔حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایسا بندہ لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا تھا۔اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم نے دنیا میں کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دے گا کہ۔۔۔۔۔اے میرے رب ! تو نے مجھے اپنا مال دیا میں لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کرتا تھا اور درگزر کرنا اور نرم سلوک کرنا میری عادت تھی۔میں خوشحال اور صاحب استطاعت سے آسانی اور سہولت کا رویہ اختیار کرتا اور تنگدست کو مہلت دیا کرتا تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مجھے اس بات کا زیادہ حق پہنچتا ہے کہ میں اپنے بندے سے درگزر سے کام لوں، میرے بندے سے (مسلم کتاب المساقاة باب فضل انظار المعسر حدیث (3887) انظار یہ لوگ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کے بھوکے ہوتے تھے۔اس لئے لوگوں سے بھی نرمی اور رفق کا سلوک در گزر کرو۔کرتے تھے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نرمی جس کسی کام میں بھی ہو تو وہ اسے خوبصورت کر دیا کرتی ہے اور جس چیز میں سے نرمی نکال لی جائے تو وہ اسے خراب کر دیتی ہے۔( صحیح مسلم۔کتاب البر والصلۃ والا داب۔باب فضل الرفق۔حدیث : 6497) جیسا کہ ہم نے پہلی حدیث میں بھی دیکھا تھا اس نرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بھی نرمی کرتا ہے، اپنی مخلوق سے بھی نرمی کرتا ہے اور اسی سلوک کی وجہ سے بخشش کے سامان پیدا فرماتا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو بتاؤں کہ آگ کس پر حرام ہے؟ وہ حرام ہے ہر اس شخص پر جولوگوں کے قریب رہتا ہے، ان کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اور ان کو سہولت دینے والا ہے۔(سنن ترمذی۔صفۃ القیامۃ۔باب نمبر 110/45۔حدیث نمبر 2488) پھر ایک جگہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جو رفق اور نرمی سے محروم رہا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم رہا۔( صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ۔باب فضل الرفق۔حدیث نمبر 6493)