خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد ششم 13 133 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 فرمودہ مورخہ 28 مارچ 2008 ء بمطابق 28 رامان 1387 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رفیق ہے۔حلیم اور رفیق کے ایک معنی مشترک بھی ہیں یعنی نرمی کرنے والا اور مہر بانی کرنے والا۔رفیق کے ایک معنی ساتھی کے بھی ہیں۔اس کے علاوہ اہل لغت نے اس کے اور بھی کئی معنے لئے ہیں۔ایک معنی اس کے ہیں کہ نقصان نہ پہنچانے والا۔نہ صرف نقصان نہ پہنچانے والا بلکہ نفع اور فائدہ پہنچانے والا ، ہمدردی کرنے والا ، رحم کرنے والا ، اپنا کام ہر سقم سے پاک اور اعلیٰ کرنے والا اور ساتھیوں کے ساتھ اعلیٰ سلوک کرنے والا اور وہ جس سے مدد لی جائے۔اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ادراک بھی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا۔9 ستمبر 1903 ء کو آپ نے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا کہ سَلامٌ عَلَيْكُمُ طِبْتُمُ یعنی تمہارے لئے سلامتی ہے ،خوش رہو۔پھر کیونکہ بیماری وبائی کا بھی خیال تھا ( اُن دنوں میں طاعون کی وبائی بیماری پھیلی ہوئی تھی ) تو اس کا علاج خدا تعالیٰ نے یہ بتلایا کہ اس کے ناموں کا ورد کیا جائے۔يَا حَفِيظُ، يَا عَزِیزُ، يَا رَفِيقُ یہ تین نام بتائے گئے۔آپ نے فرمایا کہ رفیق خدا کا نیا نام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسمائے باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی رفیق ذات ہے جو اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ، اُن کو ہر نقصان سے بچاتے ہوئے ، ان کے فائدے کے راستے دکھاتی ہے اور اس کے کام جو ہیں وہ ہر سقم سے پاک ہیں۔وہ اپنے بندوں کے لئے ایک بہترین ساتھی ہے جو ہر لحہ ان کی مدد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی بندوں کی مدد کرتا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ بخاری میں حدیث ہے کہ ال مومن بذریعہ نوافل کے اللہ تعالیٰ کا یہاں تک قرب حاصل کرتا ہے کہ وہ اس کی آنکھ ہو جاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور کان ہو جاتا ہے جس سے وہ سنتا ہے اور ہاتھ ہو جاتا ہے جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں ہو جاتا ہے جس سے وہ چلتا ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ کہ جو شخص میرے ولی کی عدوات کرتا ہے وہ جنگ کے لئے تیار ہو جاوے۔اس قدر غیرت خدا تعالیٰ کو اپنے بندے کے لئے ہوتی ہے۔