خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد ششم 132 خطبہ جمعہ فرمودہ 21 مارچ 2008 تھا۔مگر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ سنتے رہے۔اس وقت بعض طبائع میں اتنا جوش تھا کہ حضرت صاحب کی اجازت ہوتی تو اس کی وہیں تکا بوٹی اڑ جاتی۔مگر آپ سے ڈر کر سب خاموش تھے۔آخر جب اس کی مخش زبانی حد کو پہنچ گئی تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ دو آدمی اسے نرمی کے ساتھ پکڑ کر مسجد سے باہر نکال دیں مگر اسے کچھ نہ کہیں۔اگر یہ نہ جاوے تو پھر وہاں ایک سپاہی ہو تا تھا اس کے سپر د کر دیں۔(سیرت المہدی جلد اول صفحہ 257 روایت نمبر 286 مطبوعہ ربوہ) اللہ تعالیٰ کی صفت علیم کے سب سے اعلیٰ پر تو تو آنحضرت ملے تھے اور پھر اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آقا کی اتباع میں ان صفات کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور آپ کی زندگی کے بھی چند واقعات میں نے بیان کئے ہیں۔یہ نمونے ہیں جو ہماری اصلاح کے لئے بڑے ضروری ہیں۔اللہ تعالی ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہونے کی اور اس کی صفات اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد نمبر 15 شمارہ نمبر 15 مورخہ 11 اپریل تا 17 اپریل 2008 ، صفحہ 5 تا 9)