خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 134

خطبات مسرور جلد ششم 134 خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2008 پھر دوسری جگہ فرماتا ہے کہ مجھے کسی شے میں اس قدر تردد نہیں ہوتا جس قدر کہ مومن کی جان لینے میں ہوتا ہے اور اسی لئے وہ کئی دفعہ بیمار ہوتا ہے اور پھر اچھا ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی جان لینا چاہتا ہے مگر اسے مہلت دے دیتا ہے کہ اور کچھ عرصہ دنیا میں رہ لیوے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 99۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ایک تو عام لوگ ہیں وہ جیسے بھی ہوں اللہ تعالیٰ کی صفت رفیق کے تحت اس کی نرمی اور مہربانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔لیکن ایک اللہ تعالیٰ کے وہ خالص بندے ہیں جو خالص ہو کر اس کی عبادت کرنے والے اور اس کو رفیق اعلیٰ سمجھنے والے ہیں جس کا سب سے اعلی نمونہ دنیا میں ہم نے آنحضرت ﷺ کی ذات میں دیکھا ہے جنہوں نے اس رفیق اعلیٰ کی صفت کے جتنے بھی معنی بنتے ہیں ان کا فیض پایا ہے۔لیکن پھر بھی اس رفیق اعلیٰ کے پاس جانے کی تڑپ تھی تبھی وصال کے وقت یہ الفاظ بار بار آپ کے مبارک منہ سے نکلتے تھے کہ فِی الرَّفِيقِ الا علی۔اور یہ اسوہ ہے جو آپ نے قائم فرمایا تا کہ ہم بھی دنیا پر نظر رکھنے کی بجائے رفیق اعلیٰ پر نظر رکھنے والے ہوں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس صفت کے تحت کیسا اعلیٰ رفیق اور ساتھی بنتا ہے اور مشکلات سے نکالتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی اس صفت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے الہاماً فرمایا تھا۔لیکن اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہمیں اُس رفیق کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ، اس کو جذب کرنے کے لئے ، اس کی صفت کو اپنا نا ہوگا۔آج جبکہ اسلام مخالف طاقتیں پھر سے سرگرم ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، ایک ہی رفیق ہے جس کے ساتھ رہ کر ہم اپنی بچت کے سامان کر سکتے ہیں اور ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اسلام اور آنحضرت میایی پر تشدد کی تعلیم کے حوالے سے حملے ہورہے ہیں اور آج کے دن تو خاص طور پر دشمن اسلام کا بڑا گھٹیا اور ذلیل ارادہ ہے بلکہ یہ اس کا ارادہ تھا۔تو آج 28 / مارچ کو ہالینڈ کا جو ایم پی ولڈر (Wilder) ہے اس نے یہ اعلان کیا تھا کہ میں ایک فلم قرآن اور اسلام کے بارے میں جاری کروں گا لیکن اُس نے یہ فلم کل 27 مارچ کو ہی جاری کر دی ہے اور ایک چھوٹے ٹی وی چینل نے اس کا کچھ حصہ دیا بھی ہے، پھر انٹرنیٹ پر بھی اس نے دے دی ہے۔جو بڑے ٹی وی چینل تھے انہوں نے تو اس کو لینے سے انکار کر دیا ہے۔خدا کرے کہ ان لوگوں کو عقل آئی رہے اور وہ انکار ہی کرتے رہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اس نے انٹر نیٹ پر اس کو جاری کیا ہے۔جیسا کہ میں نے پچھلے خطبات میں بتایا تھا کہ اس نے کسی کے پوچھنے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ سورۃ محمد کی آیت 5 کہ فَإِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا فَضَرُبَ الرِّقَابِ۔حَتَّى إِذَا الْخَيْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ (محم :5) پس جب تم ان لوگوں سے بھڑ جاؤ جنہوں نے کفر کیا تو گردنوں پر وار کرو یہاں تک کہ جب تم ان کا بکثرت خون بہا لوتو مضبوطی سے بندھن کسو۔