خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد ششم 425 خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نوٹس پر ہے اور اسی طرح انگریزی کا ترجمہ وتفسیر فائیو والیوم‘ Five) (Volumes بھی انہوں نے کیا ہوا ہے۔گو اس کے لئے ایک کمیٹی تھی لیکن اس کا زیادہ کام اور اکثر کام آپ نے کیا اور حضرت ملک صاحب بڑے پڑھے لکھے اور انگریزی علم پر بڑی مہارت رکھتے تھے۔انہوں نے قرآن کریم کے الفاظ کی ڈکشنری بھی تیاری کی تھی لیکن وہ شائع نہیں ہو سکی۔اب گزشتہ سال اس کو مکمل کر کے شائع کروایا گیا ہے اور ملک صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔اسی طرح مولوی مبارک علی صاحب کا بھی تعارف کرا دوں۔وہ ابتدائی مبلغ تھے یہاں آئے۔انہوں نے 1909ء میں حضرت خلیفتہ اسی الاول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تھے اور 1917 ء میں جب حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو جن 63 نو جوانوں نے اپنے نام پیش کئے اُن میں مولوی مبارک علی صاحب بھی تھے۔آپ نے 1969ء میں بنگلہ دیش میں وفات پائی۔بوگرا (Bogra) میں مدفون ہیں۔تو یہ تھے دوا بتدائی مبلغ جو یہاں آئے اور ان کے تعلقات با وجود وسائل کی کمی کے کس قدر وسیع تھے، یہ میں آپ کو بتا چکا ہوں۔اب جو مر بیان اور مبلغین ہیں ان کو بھی اپنے جائزے کے لئے پرانے مبلغین کے جو واقعات اور رپورٹیں ہیں وہ ضرور پڑھنی چاہئیں تو بہر حال ان بزرگوں نے یہاں انتھک محنت کی۔اُس وقت تو حالات کی وجہ سے جیسا کہ میں نے بتایا کہ مسجد باوجود کوشش کے نہ بن سکی۔لیکن قادیان اور ہندوستان کی لجنہ کی جو قربانی تھی وہ رائیگاں نہیں گئی۔اُس رقم سے مسجد فضل تعمیر ہو گئی اور آج اس مسجد کی جو تاریخی اہمیت ہے وہ بھی سب پر واضح ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اُس وقت کی احمدی خواتین کی قربانی اتنی سچی تھی اور اس کی قبولیت کے لئے دعائیں اس درد کے ساتھ انہوں نے کی ہوں گی کہ ایک مسجد تو انہوں نے اپنی زندگی میں بنالی اور دوسری مسجد کی تعمیر میں ہو سکتا ہے آج ان کی نسلیں شامل ہوئی ہوں۔لیکن بہر حال وہی جذ بہ جوان ابتدائی خواتین کی قربانی کا تھا وہ آج بھی کچھ حد تک لجنہ میں دین کی خاطر قربانی میں ہمیں نظر آتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ان کی دعائیں تھیں جنہوں نے اپنی نسلوں میں بھی یہ جذبہ پیدا رکھا۔یہ مسجد جو اس وقت موجودہ مسجد ہے 17 لاکھ یورو میں تعمیر ہوئی ہے۔جس میں سے 4لاکھ یورو کے علاوہ 13 لاکھ جرمنی کی لجنہ نے دیا ہے اور 4 لاکھ جو باہر سے آیا ہے اس میں سے بھی زیادہ بڑا حصہ لجنہ UK کا ہے۔17 لاکھ یورو کو اگر آپ پاکستانی روپوں میں بدلیں، یہ میں پاکستانیوں کے لئے بتا رہا ہوں تو 19 کروڑ روپے کے قریب بنتا ہے۔پس آج یہ قربانی کرنے والیاں جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں تو فیق دی کہ یہ مسجد تعمیر کرسکیں۔