خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 426

426 خطبه جمعه فرمودہ 17 اکتوبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم اس مسجد کے کچھ کوائف بھی بیان کر دیتا ہوں۔اس زمانے میں تو دوا یکڑ رقبہ مل گیا تھا لیکن اس کا یہ گل پلاٹ، 4 ہزار 790 مربع میٹر ہے جو ایک ایکڑ سے کچھ زیادہ ہے اور اس پر جو رقبہ تعمیر کیا گیا ہے وہ ایک ہزار 8 مربع میٹر ہے۔اسی طرح با وجود پابندیوں کے 13 میٹر مینارہ کی اجازت مل گئی۔168 مربع میٹر کے دو ہال ہیں یعنی کل 336 مربع میٹر کے مسجد کے ہال ہیں۔اس میں 4 کمروں کا ایک فلیٹ ہے۔اس کے علاوہ جو گھر بنائے گئے ہیں، ایک دو کمروں کا ہے۔ایک کمرے کا گیسٹ ہاؤس شامل ہے۔4 دفتر ہیں۔لائبریری ہے۔کانفرنس کا کمرہ ہے اور بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا پارک بنانے کا ان کا ارادہ ہے۔تھوڑی سی پارکنگ بھی ہے۔جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں اس کی مخالفت بھی یہاں بہت ہوئی لیکن آہستہ آہستہ لگتا ہے مخالفت اب ٹھنڈی پڑتی جارہی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک وقت آئے گا کہ خود ہی ٹھنڈی ہو جائے گی جب یہاں سے انشاء اللہ تعالیٰ امن، پیار اور محبت کا پیغام دنیا میں ہر طرف پھیلے گا۔یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ آج جب دنیا دوبارہ اقتصادی بحران کا شکار ہے۔مہنگائی یورپ میں بھی بڑھ رہی ہے لیکن ایک تو یہ ہے کہ اس مہنگائی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے لجنہ کو توفیق دی کہ انہوں نے جو قربانی کی وہ رنگ لائے اور پھل لائے اور اس کا نتیجہ ہم آج دیکھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب قربانی کرنے والیوں کو بے انتہا جزا دے۔ان سب کے اموال ونفوس میں بے انتہا برکت ڈالے۔یہ نظارے ہمیں دنیا میں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔اس طرح بڑھ چڑھ کر احمدی قربانیاں کر رہے ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔یہ بھی عجیب اتفاق ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ 1923 ء میں برلن کی مسجد کی تعمیر شروع کی گئی تھی تو خوفناک اقتصادی بحران کا شکار ہونے کی وجہ سے تعمیر نہیں ہوسکی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اپنے مسیح کی جماعت کو اس انعام سے نوازنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس لئے جو آج کل دنیا میں اقتصادی حالات ہورہے ہیں ان حالات سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے مسجد کی تعمیر کی تو فیق بھی عطا فرما دی اور مکمل بھی ہو گئی۔باوجود تمام اقتصادی حالات کے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جس جذبہ سے احمدی قربانی کرتے ہیں مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ انشاء اللہ احمدیوں کے روپے میں ہمیشہ برکت ڈالتا رہے گا۔کسی نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے ریٹرن (Return) داخل کرائے تو ٹیکس کے محکمہ والے اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے کہ تمہارے گھر کا خرچہ تمہارے چندے سے کم کس طرح ہو سکتا ہے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں جن کے گھر کے خرچ ان کے چندوں کی ادائیگی سے کم ہیں۔پس یہ وہ روح ہے جو ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی ہے کہ اپنے خرچ کم کر کے بھی قربانی کرنی ہے۔اس روح کو قائم رکھنا اور قربانی کی توفیق ملنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہر احمدی کا فرض ہے۔حقیقی مومن کبھی اس رُوح کو نہ مرنے دیتا، نہ اس پر فخر کرتا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو اس نے آپ پر کیا اس پر اس کے آگے جھکتے چلے جائیں اور خود بھی اس مسجد کی تعمیر کا حق ادا کریں اور اپنی نسلوں کی بھی اس رنگ میں تربیت کریں کہ وہ مسجد کا حق ادا کرنے والی ہوں۔احمدی عورتوں کو خاص طور پر آج اس حوالے سے یہ بات یا درکھنی