خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 424
424 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 17 اکتوبر 2008 اُس وقت تو ہند و پاکستان ایک تھا۔وہاں کی لجنہ نے ، خاص طور پر قادیان کی لجنہ نے ایسی مثال قائم کی کہ اس سے پہلے وہاں کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔اُس زمانہ میں جو ایک انقلابی صورت پیدا ہوئی تھی لجنہ کی ایکٹیوٹیز (activities) میں اور خاص طور پر اس تحریک کے لئے قربانی میں، ایسی قربانیاں قرون اولیٰ میں نظر آتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس زمانے کی جو جاگ لگی ہوئی ہے، آج تک اس کی مثالیں ملتی رہتی ہیں۔اُس وقت احمدی عورتوں نے نقد ر میں اور طلائی زیورات حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی خدمت میں پیش کئے۔پہلے دن ہی 8 ہزار روپے نفذ اور وعدوں کی صورت میں قادیان کی احمدی عورتوں نے یہ وعدہ پیش کیا اور یہ رقم عطا کی اور 2 ماہ کے تھوڑے سے عرصہ میں 45 ہزار روپے کے وعدے ہو گئے اور 20 ہزار روپے کی رقم بھی وصول ہوگئی۔پھر کیونکہ اخراجات کا زیادہ امکان پیدا ہو گیا تھا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اس کی مدت بھی بڑھا دی اور ٹارگٹ بڑھا کے 70 ہزار روپے کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی عورتوں نے اس وقت 72 ہزار 700 کے قریب رقم جمع کی۔بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ 5 اگست 1923ء کو مسجد برلن کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔جس میں جرمنی کے وزیر داخلہ اور وزیر برائے رفاہ عامہ، ترکی اور افغانستان کے سفراء، متعدد اخبار نویس اور بعض دیگر معززین شامل تھے اور مہمانوں کی تعداد 400 تھی اور احمدی اس زمانے میں صرف چار تھے۔یہ اُس وقت حال تھا لیکن اتنے وسیع تعلقات تھے۔یہ تھی اُس وقت کے مبلغین کی کوشش کہ اتنے وسیع تعلقات تھے اور یہ سب بڑی بڑی شخصیات اُس وقت مسجد کی بنیاد کے لئے تشریف لائیں اور بہر حال مسجد کا سنگ بنیا درکھا گیا۔لیکن کیونکہ اقتصادی حالات یہاں کے بہت خراب ہو گئے تھے، جنگ عظیم کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوا تو وہی جو خیال تھا کہ 50-60 ہزار میں مسجد بن جائے گی اس کا اندازہ خرچ 15لاکھ روپیہ پرلگایا گیا۔اتنے اخراجات پورے کرنا جماعت کے وسائل کے لحاظ سے بہت ناممکن تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے فیصلہ فرمایا کہ دومراکز کو چلانا بہت مشکل ہے، ایک لندن والا بھی اور ایک برلن میں بھی تو 1924ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ برلن مشن کو ان حالات کی وجہ سے بند کر دیا جائے کیونکہ مالی وسائل بھی نہیں ہیں اخراجات بھی نہیں پورے ہو سکتے ، حالات یہاں بہت خراب ہو گئے تھے۔لیکن وہ جو عورتوں نے ، احمدی خواتین نے قربانیاں کی تھیں ، وہ رقم حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر لندن بھیج دی گئی اور وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لندن تعمیر ہوئی۔پھر یہاں 1948ء میں دوبارہ شیخ ناصر احمد صاحب آئے تھے جنہوں نے ہمبرگ میں مشن شروع کیا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ پہلے بھی میں نے کہا کہ سفر کی سہولتیں بھی ہیں اور جماعت کے مالی حالات بھی بہت بہتر ہیں۔اُس زمانے میں سمندری سفر ہوتا تھا۔مکرم ملک غلام فرید صاحب کو سفر میں 22 دن لگے تھے۔یہ وہی حضرت ملک غلام فرید صاحب ہیں جنہوں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور مختصر نوٹس جن کی بنیاد حضرت