خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 112

112 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمود 140 مارچ 2008 آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں سے بھی اور ان کے بائیں سے بھی آؤں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں ان سب کو پھر جہنم سے بھر دوں گا جو تیری اتباع کرنے والے ہیں۔گو بعض لوگوں کو ان کے اعمال اس دنیا میں ہی جہنم کا نمونہ دکھا دیتے ہیں لیکن یہ جہنم کا دور مرنے کے بعد ان کی سزا سے شروع ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ جو جزا سزا کا دن رکھا ہے یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ فوری طور پر یہاں نہیں پکڑتا بلکہ آگے جا کے پکڑے گا۔اگلے جہان جا کر جزا سزا کا فیصلہ ہو گا۔اس لئے آخرت پر یقین نہ رکھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ اس دنیا میں اگر پکڑ نہیں ہے تو اگلے جہان میں بھی ہمارے ساتھ کوئی پوچھ کچھ نہیں ہوگی کیونکہ ہمارا کفارہ ادا ہوا ہے یا خدا کا کوئی وجود ہی نہیں ہے جو ہمیں سزا دے۔کاش کہ اللہ تعالیٰ کی چھوٹ سے غلط مطلب نکالنے کی بجائے یا خدا کو نہ سمجھنے والے اس حقیقت کو سمجھیں کہ خدا ہے اور اس کی طرف جھکنے والے بنیں۔پھر اس آیت میں خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ہر گناہ پر اس دنیا میں گرفت شروع ہو جائے تو اس زمین پر میں پھر کوئی جاندار بھی باقی نہ چھوڑتا اور جاندار کا نہ چھوڑنا، کیا مقصد ہے؟ یہ اس لئے کہ اس رحمان خدا نے انسان کی بقائے زندگی کے لئے اس دنیا میں پہلے زندگی پیدا کی ہے۔اس لئے کہ جو خدا تعالیٰ کی باقی مخلوق ہے اس کی زندگی بھی انسان کی زندگی کے لئے ضروری ہے بلکہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی دوسری مخلوق اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی تھی۔پہلے دوسری زندگی شروع ہوئی تھی۔ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت پر لگا دیا اور اس کے لئے مستقر کر دیا۔پس اگر انسان کی زندگی کا سزادے کر خاتمہ کرنا تھا تو اس مخلوق کو ہی ختم کر دیتا جو انسان کی بقا کے لئے تھی اور انسان ایک عذاب میں مبتلا ہو کر ختم ہو جاتا۔کیونکہ بقای زندگی کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی۔یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کسی عذاب سے انسانیت ہی کو ختم کرنا تھا تو پھر اس کی بقا کے جو سامان مہیا فرمائے ان کا بھی خاتمہ کر دیتا۔کیونکہ جب انسان ہی نہیں رہا تو ان چیزوں کی بھی ضرورت نہیں رہی۔پس اللہ تعالیٰ کے فوری طور پر کسی جرم میں نہ پکڑنے کی بڑی حکمت ہے۔جس طرح نیک لوگوں میں سے بد پیدا ہو جاتے ہیں یا ہو سکتے ہیں اسی طرح بدوں میں سے نیک بھی پیدا ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی اس صفت حلیم کو خوب سمجھا ہے تبھی تو طائف کے سفر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بد قماش قوم کو ختم کرنے کے لئے کہنے پر آپ نے اس حلیم کا پر تو بنتے ہوئے عرض کی کہ اے اللہ ! میں امید کرتا ہوں کہ ان کی نسل میں سے تیری عبادت کرنے والے پیدا ہوں گے۔اور تجھ سے دعا بھی کرتا ہوں اور تو میری اس دعا کو قبول کر۔اور پھر اس قوم میں سے دنیا نے دیکھا کہ ایک خدا کی عبادت کرنے والے پیدا ہوئے۔وہ جو آپ کی جان لینا چاہتے تھے، ان کی زندگی کا مقصد ہی یہ تھا کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی جان لیں۔وہی آپ پر اپنی جانیں نثار کرنے والے بن گئے۔پس اللہ تعالیٰ کی ڈھیل میں بڑی حکمت ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ان کا حساب نہیں لوں گا بلکہ مؤاخذہ میں ڈھیل ہے۔اور فرمایا جب مؤاخذہ کا وقت آئے گا تو پھر اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔