خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 113 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 113

113 خطبه جمعه فرموده 14 مارچ 2008 خطبات مسرور جلد ششم پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جو حد سے بڑھ جاتے ہیں فرماتا ہے کہ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُوْحِرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا - (الفاطر : 46) اور اگر اللہ لوگوں کا اس کے نتیجہ میں مؤاخذہ کرتا جو انہوں نے کمایا تو اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے پھرنے والا جاندار باقی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ( آخری ) مدت تک مہلت دیتا ہے۔پس جب ان کی مقررہ مدت آ جائے گی تو ( خوب کھل جائے گا کہ ) یقینا اللہ اپنے بندوں پر گہری نظر رکھنے والا ہے۔اس آیت سے کچھ پہلے اسی سورۃ فاطر میں اللہ تعالیٰ اپنے حلیم ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمواتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُولَا وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّنْ بَعْدِهِ۔إِنَّهُ كَانَ حَلِيْمًا غَفُورًا۔(الفاطر: 42) کہ یقینا اللہ آسمانوں اور زمین کورو کے ہوئے ہے کہ وہ ٹل سکیں اور اگر وہ دونوں (ایک دفعہ) ٹل گئے تو اس کے بعد کوئی نہیں جو پھر انہیں تھام سکے۔یقیناوہ بہت بُردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔اس آیت کا مقصد ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لانے والے نہیں وہ اپنی مذموم حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے یقیناً قابل ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ جو رحم کرنے والا ہے، بردبار ہے، بخشنے والا ہے اس نے تمہیں بچایا ہوا ہے اور ڈھیل دیتا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے کہ اپنی حالتوں کو بدلو۔اس رویے کو بدلو جو آنحضرت ﷺ کے خلاف تم نے اپنایا ہوا ہے۔اپنی اصلاح کرلو ورنہ اگر اللہ تعالیٰ اپنا حساب لینا شروع کر دے اور فوری سز ا شروع کر دے تو چند لمحوں میں تمہیں ختم کر سکتا ہے۔اور زمین و آسمان کو اس نے روک رکھا ہے۔اگر وہ ٹل جائیں تو پھر قیامت کا نمونہ ہوگا۔پس وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے جو فوری بدلے نہیں لیتا اور بخشنے والا بھی ہے اس کی طرف جھکو اور اپنی حدود کے اندرر ہو۔یہ جو پہلی آیت میں نے پڑھی تھی (الفاطر : 46 مراد ہے۔ناقل ) اور ترتیب کے لحاظ سے وہ آخری آیت ہے۔اس میں بھی اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اگر تمہاری ان حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فوری مواخذہ کرتا تو نہ کوئی جنگلی جانور باقی رہتا، نہ کوئی گھر یلو جانور باقی رہتا، نہ کوئی پرندہ باقی رہتا۔یعنی پھر یہاں دوبارہ اس بات کا اظہار فرمایا کہ تمہاری زندگی کی بقا جن زندگیوں سے وابستہ ہے اگر صرف انہی کا خاتمہ اللہ تعالی کر دے تو تمہاری زندگی اذیت ناک ہو جائے گی اور اسی عذاب میں مبتلا ہو کر ختم ہو جاؤ گے۔پس کس بات پر اتراتے پھرتے ہواور تکبر کرتے ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے جو یہ عارضی ڈھیل دی ہے اس سے سبق سیکھو۔یہ مستقل سزا بھی بن سکتی ہے۔اب یہاں مرغیوں کی بیماریاں آئیں مثلاً برڈ فلو ہے، دنیا میں بڑا پھیلا۔اس نے کئی ملکوں کے لوگوں کو پریشان کر دیا۔یہ تو ہلکے ہلکے جھٹکے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتے ہیں۔لیکن سب سمجھتے نہیں سمجھتے وہی ہیں جو سمجھنے والے ہیں۔ایک