خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 424
424 خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پھر لسان العرب میں اس کے معنی یوں بیان ہوئے ہیں۔الْعَزِیزُ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔زجاج کہتے ہیں کہ عزیز وہ ذات ہے جس تک رسائی ممکن نہ ہو اور کوئی شے اسے مغلوب نہ کر سکتی ہو۔بعض کے نزدیک العَزِیزُ وہ ذات ہے جو قوی ہو اور ہر ایک چیز پر غالب ہو۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ الْعَزِیزُ وہ ذات ہے جس کی کوئی مثل نہیں۔اَلْمُعِزّ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور وہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عزت عطا کرتا ہے۔العز ذلّت کے مقابلے پر عزت استعمال ہوتا ہے اَلْعِزُّ کا اصل مطلب قوت ، شدت اور غلبہ ہے، الْعِزُّ وَالْعِزَّةُ کے معانی ہیں الرّفْعَةُ وَالْإِ مُتِنَاعُ۔وہ بلندی کہ جس تک رسائی نہ ہو سکے۔اس ساری وضاحت کا خلاصہ یہ نکلا کہ عزیز خدا تعالیٰ کا نام ہے جو کاملیت اور جامعیت کے لحاظ سے صرف خدا تعالیٰ پر ہی صادق آتا ہے اور وہی ہے جس کی طرف تمام عزتیں منسوب ہیں۔وہی ہے جو اپنے پر ایمان لانے والوں اور اپنے رسول کو طاقت وقوت عطا فرماتا ہے جو ان کے غلبہ کا موجب بنتی ہے۔پس اس غالب اور سب طاقتوں کے مالک خدا سے تعلق جوڑنا ہی ایک انسان کو قوت و طاقت عطا فرماتا ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ قرآن کریم میں تقریباً سو جگہ مختلف مضامین اور حوالوں کے تحت اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر ہے۔اس بارے میں بعض مفسرین نے بعض آیات کی جو تفسیریں کی ہیں ان میں سے چند ایک پیش کرتا ہوں تا کہ اس کے مزید معنی کھل سکیں۔علامه فخر الدین رازی اَمْ عِنْدَ هُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ (سورة ص : (10) کے ضمن میں لکھتے ہیں کہ عزیز کی صفت بیان کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ نبوت کا منصب ایک عظیم منصب اور ایک بلند مقام ہے اور اس کو عطا کرنے پر قادر ہستی کے لئے ضروری ہے کہ عزیز ہو یعنی کامل قدرت رکھنے والی ہستی ہو اور وھاب ہو یعنی بہت زیادہ سخاوت کرنے والی ہو اور اس مقام پر فائز صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کامل قدرتوں والا اور کامل الجود ہے۔( یعنی سخاوت اور بخشش کرنے والا ہے۔) (تفسیر کبیر امام رازى تفسير سورة ص زیر آیت نمبر (10) | یہ آیت جس کی علامہ رازی نے وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز بیان کی ہے یہ اصل میں کافروں کے اس سوال کے جواب میں ہے جو اس آیت سے پہلی آیت میں بیان ہوا ہے جب کافروں نے کہا تھا ک ءَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنَا (سورة ص : 9) کیا ہماری ساری قوم میں سے اسی پر ذکر نازل ہوا ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیرا رب جو غالب اور بخشنہا ر ہے کیا اس کی رحمت کے خزانے انہی کافروں کے پاس ہیں جسے چاہے یہ دیں، جسے چاہیں نہ دیں۔اعتراض کرتے ہیں کہ یہ ہمارے جیسا شخص ہے اس پر کس طرح نبوت اتر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت کے خزانے تمہارے پاس نہیں ہیں بلکہ میں جو غالب اور تمام قدرتوں والا ہوں ہمیں ہی جسے چاہے خزانے دیتا ہوں۔تم تو میری مخلوق ہو۔تکبر کس بات کا ہے؟ پس اللہ جسے مناسب سمجھتا۔اپنی رحمت کے خزانوں میں سے دیتا ہے اور نبوت کا انعام اسے ہی دیتا ہے جس کے لئے سمجھتا ہے کہ یہ بہترین طور پر