خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 423
خطبات مسرور جلد پنجم 423 (42) خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء فرموده مورخه 19 اکتوبر 2007 ء بمطابق 19 را خاء1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے اس آیت کی تلاوت فرمائی مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَئِكَ هُوَ يَبُورُ (فاطر: 11) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ جو بھی عزت کے خواہاں ہیں ، پس اللہ ہی کے تصرف میں سب عزت ہے ، اسی کی طرف پاک کلمہ بلند ہوتا ہے اور اسے نیک عمل بلندی کی طرف لے جاتا ہے اور وہ لوگ جو بُری تدبیریں کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے ، ان کا مکر ضر ور ا کارت جائے گا۔اللہ تعالیٰ کی ایک صفت عزیز ہے، جس کا قرآن کریم میں قریباً سو دفعہ بیان ہوا ہے۔یہ بیان مختلف آیات میں مختلف مضامین کے ساتھ اور ایک آدھ بار اس کے علاوہ دوسری صفات کے ساتھ مل کر ہوا ہے۔اس صفت کے اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے اہل لغت نے جو مختلف معانی کئے ہیں وہ میں بیان کرتا ہوں۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ العَزِیز وہ جو غالب ہوا اور مغلوب نہ ہو۔یعنی جو دوسروں کو دبا لے اور اُسے کوئی دبانہ سکے، اس پر غلبہ نہ پاسکے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یعنی وہ يقين غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔پھر امام راغب نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ (المنافقون: (9) اس کا ترجمہ ہے اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کو ہی حاصل ہے۔عزت کا مطلب بھی قوت، طاقت اور غلبہ ہے۔یہ لکھتے ہیں کہ وہ عزت جو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کو حاصل ہے یہی ہمیشہ باقی رہنے والی دائگی اور حقیقی عزت ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ آیت مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ، اس کے معنی ہیں کہ جو شخص معزز بنا چاہتا ہے اُسے چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سے عزت حاصل کرے۔کیونکہ سب قسم کی عزت خدا ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔امام راغب قرآنی آیات کے حوالے سے ہی عمو ماً معانی بیان کرتے ہیں۔