خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 425
خطبات مسرور جلد پنجم 425 خطبہ جمعہ 19 اکتوبر 2007ء اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس پیغام کو پہنچائے گا۔آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر بھی یہی اعترض ہوتا ہے۔عیسائی ، مسلمان کئی ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں، مسلمانوں میں سے تو اکثریت ہے جنہوں نے قبول نہیں کیا ان کا یہی اعتراض ہے کہ مسیح و مہدی ایک عام آدمی؟ یہ الہام اور یہ نبوت کا مقام مرزا غلام احمد قادیانی کو کس طرح مل گیا ؟ کیا اس عام آدمی کو اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی بنانا تھا؟ ایک عیسائی عورت نے بھی جرمنی میں مجھ سے ایک سوال کیا کہ دور دراز پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک شخص کو کیوں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا دیا، یہ کس طرح ہو گیا ، جس کا پیغام بھی باہر نہیں پہنچ سکتا تھا۔چھوٹی سی جگہ ہے، اس زمانے میں کوئی ذرائع نہیں تھے۔تو میں نے اس سے یہی کہا تھا کہ جواب تمہارے سوال میں ہی آ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب اپنی رحمت کا خزانہ کھولا تو اس پیغام کے پہنچانے کے لئے انتظام بھی کر دیا۔آج جرمنی میں بھی تم یہ پیغام سن رہی ہو۔تمہیں بھی یہ پیغام پہنچ گیا ہے۔دنیا کے 189 ممالک میں یہ پیغام پہنچ گیا ہے۔تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مقام بخشا گیا جو غالب ہے، جو سب عزتوں کا مالک ہے، جو اپنے پیاروں کو غلبہ عطا فرماتا ہے بلکہ اس سے منسلک مومنین کی جماعت سے بھی وعدہ ہے کہ غلبہ عطا فرمائے گا۔عرب کہتے ہیں کہ عرب سے باہر مسیح و مہدی کس طرح ہوسکتا ہے؟ باقی دنیا میں بسنے والے مسلمان کہتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ پنجابی کس طرح مسیح و مہدی ہو سکتا ہے؟ حدیثوں کا حوالہ دیتے ہیں کہ یہ نشانیاں پوری نہیں ہوئیں، ظاہری معنوں کو دیکھتے ہیں۔اس پیغام پر غور نہیں کرتے جو احادیث میں بیان ہوا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کر کے فرمایا کہ پہلے انبیاء سے بھی یہ سوال ہوا تھا۔آنحضرت ﷺ سے بھی یہی سوال ہوا اور ظاہر ہے جب آپ کے عاشق صادق نے مبعوث ہونا تھا تب بھی یہی سوال ہونا تھا۔اس لئے مسلمانوں کو ہوشیار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں عزیز ہوں، میں وہاب ہوں۔تم لوگ جو قرآن کریم پڑھنے والے ہو اس بات پر غور کرو۔رحمت کے خزانوں کا بھی میں مالک ہوں تم نہیں۔جس کو مسیح و مہدی بنانے کے لئے میں نے مناسب سمجھا ، بنا دیا۔قرآن میں بھی جیسا کہ میں نے کہا بیان فرما دیا کہ جب آئندہ کبھی موقع آئے تو اس پر غور کروتا کہ تمہیں ٹھوکر نہ لگے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ پیغام کو سمجھنے والے بنیں۔یہ بات بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دی کہ جس پر اپنی رحمت اتارتا ہوں، جسے انعام سے نوازتا ہوں، پھر اس کی مدد بھی کرتا ہوں۔اور مدد کرنے اور فتح دینے کا اعلان بھی صفت عزیز کے تحت بڑے زور دار طریق سے فرمایا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ۔(المجادلة:22) امام فخر الدین رازی اس آیت کی تفسیر کے تحت بیان کرتے ہیں کہ افضل طور پر تمام رسولوں کا غلبہ حجت اور دلائل سے متعلق ہے سوائے اس کے کہ ان میں سے بعض نے دلائل کے غلبے کے ساتھ تلوار کا غلبہ بھی شامل کر دیا لیکن