خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 276

خطبات مسرور جلد پنجم 276 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء اس وقت اسلام کی طاقت محدود تھی۔ان کو کچھ تو عقل کرنی چاہئے ، سوچنا چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے جو خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور اس کی ذات پر آپ کو مکمل یقین تھا آپ نے یہ پیغام دیا لیکن اس لئے دیا کہ آپ انسانی ہمدردی چاہتے تھے اور آپ کو یقین تھا کہ اس دین میں ہی اب امن و سلامتی ہے۔یہی دین ہے جو امن اور سلامتی پھیلانے والا دین ہے اس لئے دنیا کو اسے تسلیم کرنا چاہئے۔اور اس نیت سے انہوں نے یہ پیغام مختلف بادشاہوں کو بھجوائے۔آنحضرت ﷺ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنا آخری شرعی پیغام دے کر دنیا میں بھیجا سے زیادہ کوئی بھی اس یقین پر قائم نہیں ہوسکتا تھا کہ اب یہی پیغام ہے جو دنیا کی سلامتی کا ضامن ہے۔پس اس لحاظ سے انہی الفاظ کے ساتھ آپ نے بادشاہوں کو بھی دعوت دی اور آپ اس ہمدردی کی وجہ سے ہر حد سے بڑھے ہوئے کو جو اسلام کوختم کرنے کے درپے تھا جنگ شروع ہونے سے پہلے یہی پیغام بھیجا کرتے تھے کہ اسلام تو امن وسلامتی اور صلح کا پیغام ہے اب جبکہ تم ہم پر جنگ ٹھونس رہے ہو ہم اب بھی اس سے گریز کرتے ہوئے تمہیں یہ سلامتی کا پیغام دیتے ہیں کہ اگر تم اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہتے ہو تو رہو۔بیشک اپنے طریق کے مطابق عبادت کرو لیکن اسلام کے خلاف سازشیں کرنے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے سے باز آ جاؤ۔اور اب جبکہ تم نے ہم پہ جنگ ٹھونسی ہے اور اس کو ماننے کو تیار نہیں تو اب یہی ایک حل ہے کہ اگر تم جنگ ہارتے ہو تب بھی تمہیں فرمانبرداری اختیار کرنا پڑے گی اور اگر جنگ کئے بغیر اسلام کی فرمانبرداری اور اطاعت میں آتے ہو تب بھی ٹھیک ہے، تمہارے سارے حقوق تمہیں دیئے جائیں گے۔پس یہ الزام قطعاً غلط ہے کہ نعوذ باللہ کوئی دھمکی تھی بلکہ اس کو جس طرح بھی لیا جائے یہ اس حکم کی تعمیل تھی کہ جب تک دین خالصتاً اللہ کے لئے (نہ) ہو جائے امن قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ہر ایک کو مذہبی آزادی دینی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ آپ جنگوں میں کس طرح محکوم قوم کا خیال رکھا کرتے تھے اور اس کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔یہاں تک فرمایا کہ جنگ میں کوئی دھو کے بازی نہیں کرنی۔آپ کے حملے بھی ہمیشہ دن کی روشنی میں ہوا کرتے تھے۔حکم تھا کہ کسی بچے کو نہیں مارنا کسی عورت کو نہیں مارنا، پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل نہیں کرنا ، بوڑھوں کو نہیں مارنا بلکہ جو تلوار نہیں اٹھا تا اسے بھی کچھ نہیں کہنا چاہے وہ نو جوان ہو۔پھر دشمن ملک کے اندر خوف اور دہشت پیدا نہیں کرنی لشکر جنگ میں اپنا پڑاؤ ڈالیں تو ایسی جگہ ڈالیں جہاں لوگوں کو تکلیف نہ ہو اور فرمایا جو اس بات کی پابندی نہیں کرے گا اس کی لڑائی خدا کے لئے نہیں ہوگی بلکہ اپنے نفس کے لئے ہوگی اور جولڑائیاں نفس کے لئے لڑی جاتی ہیں اس میں ظلم و تعدی کے علاوہ کچھ نہیں ہوا کرتا۔تو اس ظلم و تعدی کو روکنے کے لئے ہی اور اس سلامتی کو پھیلانے کے لئے ہی حکم ہے کہ تمہارا ہر کام خدا کی خاطر ہونا چاہئے۔پھر دیکھیں انسانی ہمدردی کی انتہا۔آپ ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دشمن کے منہ پر زخم نہیں لگانا۔کوشش