خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 275
خطبات مسرور جلد پنجم 275 خطبہ جمعہ 29 جون 2007ء ہے کہ وہ سلامتی کا چلتا پھرتا پیغام ہو۔یہ اعلان اس لئے فرمایا کہ ہم تمہارے پرانے ظلم بھی معاف کرتے ہیں۔تمہارا یہ جنگ ٹھونسنا بھی ہم معاف کرتے ہیں۔اگر تم ہم سے آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنا چاہو۔یہ عہد کرو تو ہماری طرف سے بھی پابندی ہوگی۔لیکن اگر باز نہیں آؤ گے تو پھر ہماری مجبوری ہے۔جب بھی تم حملہ کرو گے، یا ہمارے ساتھیوں کو، دوسرے مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچاؤ گے تو تمہارے ظلم کو روکنے کی وجہ سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔تو اللہ کے دین کی خاطر اور دنیا کے امن اور سلامتی کی خاطر ہمیں لڑنا پڑے گا تو لڑیں گے۔یہ بھی اعتراض ہوتا ہے کہ فرمایا وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلهِ یعنی اور دین خالصتا اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے۔اعتراض کرنے والے اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ تم جنگ کرتے چلے جاؤ اور اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلاتے چلے جاؤ یہاں تک کہ تمام دنیا پر اسلام پھیل جائے۔تو یہ تو کم عقلی اور کم فہمی ہے اور اسلام پر الزام تراشی ہے۔اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھیں اور دوسری آیات کے ساتھ دیکھیں، جن میں سے چند کا میں نے ذکر بھی کر دیا ہے تو اس سے صاف مطلب بنتا ہے کہ کیونکہ ہر شخص کے دین کا معاملہ اپنے خدا کے ساتھ ہے اس لئے جس کا جو دین ہے وہ اختیار کرے۔اسلام کا پیغام پہنچانا تو ہر مسلمان کا فرض ہے لیکن اس کو زبر دستی منوانا مسلمان کا کام نہیں ہے۔یہ اللہ کا معاملہ ہے۔اللہ کے لئے دین ہو جائے“ کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی تم کام کرو وہ خالصتا اللہ کے لئے کرو، نہ یہ کہ اسلام کو زبردستی ٹھونسو۔اگر کوئی نہیں مانتا تو یہ اس کی مرضی ہے، ہر ایک کا عمل اللہ تعالیٰ کے سامنے ہے پھر وہ جو چاہے گا سلوک کرے گا۔آنحضرت ﷺ کی ذات پر بھی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ بھی نعوذ باللہ زبردستی لشکر کشی کیا کرتے تھے اور زبر دستی مسلمان بناتے تھے اور اسی لئے یہ جنگیں لڑی گئیں۔اور اس دلیل کے علاوہ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب بادشاہوں کو تبلیغی خطوط لکھا کرتے تھے یا جب کوئی لشکر بھجواتے تھے یا جب کوئی غزوہ ہوتا تھا اسلم تَسُلَم يَا أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا کا پیغام بھجواتے تھے یعنی اسلام قبول کر لو تو محفوظ رہو گے۔اور اس کا نتیجہ نکالنے والے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ دھمکی ہے کہ اسلام قبول کر لو ورنہ پھر ہم طاقت کے زور سے منوائیں گے۔پہلی بات تو یہ کہ آنحضرت ﷺ خالصتاً تبلیغی نقطہ نظر سے یہ فرماتے تھے کہ اسلام کا پیغام ہی ہے جو سلامتی کا پیغام ہے اس لئے اس کی فرمانبرداری کرو اور اس کے سائے تلے آ جاؤ۔یہ معترضین تو دنیا کی آنکھ سے دیکھتے ہیں یہ کم از کم اتنی عقل کرتے کہ بڑے بڑے بادشاہوں کو آنحضرت ﷺ نے تبلیغی خطوط لکھے اور ایک ہی وقت میں خطوط لکھے اور بقول معترضین کے کہ یہ دھمکی آمیز الفاظ ہیں تو یہ خطوط ایک ہی وقت میں دنیا کی تمام بڑی بڑی حکومتوں کو ، بادشاہوں کو لکھے جا رہے ہیں کہ اگر نہ مانو گے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔اگر ان کے مطابق اس کے معنے لئے جائیں تو کوئی بھی عام عقل کا انسان بھی اس قسم کی حرکت نہیں کر سکتا کہ تمام دنیا سے ایک وقت میں ٹکر لی جائے جبکہ خود