خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 216

خطبات مسرور جلد پنجم 216 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء چاہئے ، جن میں شرم آنی چاہئے اور روک بننی چاہئے۔پس اللہ کی سلامتی کا وارث بننے کے لئے بچوں میں بھی سلام کی عادت ڈالیں اور یہ عادت اسی صورت میں پڑے گی جب بڑے چھوٹوں کو سلام کرنے میں پہلے کریں گے۔صحابہ کو اس بات کا ادراک ہونے کے بعد کہ سلام کتنی اہم چیز ہے، اس کی اتنی عادت پڑ گئی تھی کہ حدیث میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ہوتے اور اگر رستے میں چلتے ہوئے کوئی درخت ہمیں الگ کر دیتا (یعنی ہم چلے جارہے ہیں اور بیچ میں کوئی درخت آ گیا ) تو جب دوبارہ آپس میں ملتے تو پھر ایک دوسرے کو سلام کہتے تھے۔(الترغيب والترهيب جزء 3 الترغيب فى افشاء السلام وماجاء في فضله۔۔۔۔۔۔حديث نمبر 3989 صفحه 373) | تو یہ تھے صحابہ کے طریقے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ سمجھ گئے تھے کہ معاشرے میں امن اور محبت قائم کرنے کے لئے سلام ضروری چیز ہے۔یہ دعائیہ تحفہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، یہ ضروری چیز ہے۔اور دوسرے اس بات کے بھی بھوکے تھے کہ کسی بھی طرح اللہ تعالیٰ کے سلامتی کے پیغام سے فیض پاسکیں اور اس طرح سے اپنی دنیا اور عاقبت سنوار نے والے بن جائیں۔اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے کس طرح قرآنی تعلیمات اور آنحضرت ﷺ کی سنت کو اپنے صحابہ میں رائج فرمایا جس سے یہ لوگ سلامتی کا پیغام پہنچانے اور سلامتی کا پیغام پھیلانے میں کس قدر کوشاں رہتے تھے۔اس کی ایک دو مثالیں دیتا ہوں۔در شیخ محمد علی آف مسانیاں بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نماز فجر با جماعت ادا نہ کر سکا تو میں نے نماز گھر پر ہی ادا کی۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں کسی کام سے بازار کی طرف آ رہا تھا کہ دارالا نوار کے راستے پر حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے آتے دکھائی دئے۔میں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ آج تو میں ضرور حضرت مولوی صاحب سے سلام کرنے میں سبقت لے جاؤں گا کیونکہ مولوی صاحب چھوٹے بڑے ہر ایک کو پہلے سلام کر لیا کرتے تھے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ آج تو میں ضرور کروں گا ، اس حد تک پہنچ جاؤں جہاں میری آواز پہنچ جائے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی فکر میں ہی تھا کہ حضرت مولوی صاحب نے حسب دستور کافی فاصلے سے بلند آواز سے اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ کہا۔میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔حضرت مولوی صاحب مصافحہ کرتے ہی فرمانے لگے شیخ صاحب اگر انسان نماز با جماعت ادا کرنے سے رہ جائے تو اُسے وہ نماز مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے تاکہ مسجد میں نماز پڑھنے کی عادت رہے۔تو کہتے