خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد پنجم 217 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء ہیں کہ میں حضرت مولوی صاحب کی اس فراست پر حیران رہ گیا کہ کس طرح انہوں نے میرے ذکر کئے بغیر میری اس غفلت کو بھانپ لیا۔“ ( نجم الہدی سوانح حضرت مولوی شیر علی صاحب صفحہ 170 مطبوعہ رضاسنز پرنٹرز لا ہور ) تو یہ تھا اُن لوگوں کا نور فراست کہ سلامتی کے پیغام کے ساتھ ساتھ نیکی کی طرف بھی انتہائی پیار سے ، شرمندہ کئے بغیر توجہ دلا دیا کرتے تھے۔اسی طرح حضرت مولوی شیر علی صاحب کے بارے میں دوسری روایت ہے۔مولوی عبدالرحیم صاحب عارف مبلغ سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ گھریلو زندگی آپ ( یعنی حضرت مولوی شیر علی صاحب۔ناقل ) کے وجود سے گویا جنت کا نمونہ تھی جب آپ گھر میں تشریف لاتے تو بلند آواز سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتے۔اسی طرح قرآنی حکم کے مطابق کہ گھروں میں داخل ہو تو سلام کہو۔” پھر جوں جوں گھر کے ایک ایک فرد سے ملاقات ہوتی ان کو الگ الگ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے۔بچوں سے مصافحہ کرتے ، چھوٹے بچوں کو پیار سے اٹھا لیتے اور کافی دیر تک خاص محویت کے عالم میں خاموش صحن میں ٹہلتے رہتے اور لبوں پر دعا ئیں جاری ہوتیں۔“ (سیرت حضرت مولانا شیر علی صاحب مرتبہ ملک نذیر احمد ریاض صفحه 76 تو یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت پائی اور پھر کس طرح سلامتیاں بکھیر نے والے اور محبتیں بکھیر نے والے تھے۔آنحضرت ﷺ سلام کو رواج دینے اور اس کی برکات کی طرف توجہ دلانے ، سلامتی اور دعاؤں سے بھری ہوئی مجالس کے قیام کے لئے کس طرح توجہ دلایا کرتے تھے اس کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اُس نے کہا السّلامُ عَلَيْكُمُ اس پر آپ نے فرمایا دس نیکیاں۔پھر ایک اور شخص گزرا جس نے کہا السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله۔اس پر آپ نے فرمایا 20 نیکیاں۔پھر ایک اور شخص گزرا اور اس نے کہا اَلسَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه۔اس پر آپ نے فرمایا 30 نیکیاں۔پھر ایک شخص مجلس سے اٹھا اور اس نے سلام نہ کیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لگتا ہے کہ تمہارا ساتھی بھول گیا ہے۔جب تم میں سے کوئی بھی مجلس میں آئے تو اسے چاہئے کہ وہ سلام کہے۔اگر وہ بیٹھنے کے لئے جگہ پائے تو اسے چاہئے کہ وہ بیٹھ جائے اور جب کوئی کھڑا ہو تو وہ سلام کہے۔الأدب المفرد لامام بخاری باب نمبر 451 فضل السلام حدیث نمبر (1015) آتے جاتے بھی سلام کہنا چاہئے۔