خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد پنجم 215 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء اللہ فرماتا ہے فَإِذَا دَخَلْتُمُ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمُ تَحِيَّةً مِنْ عِندِ اللهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً۔كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (النور:62) پس جب تم گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں پر اللہ کی طرف سے ایک بابرکت پاکیزہ سلامتی کا تحفہ بھیجا کرو۔اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیات کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم عقل کرو۔ایسے گھروں میں رہنے والے جب ایک دوسرے پر سلامتی کا تحفہ بھیجتے ہیں تو یہ سوچ کر بھیج رہے ہوں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحفہ ہے۔تو آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوگا اور ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہوگی۔گھر کے مرد سے، اس کی سخت گیری سے، اگر وہ سخت طبیعت کا ہے تو اس سلامتی کے تحفے کی وجہ سے ، اس کے بیوی اور بچے محفوظ رہیں گے۔اس معاشرے میں خاص طور پر اور عموماً دنیا میں باپوں کی ناجائز بختی اور کھردری (سخت) طبیعت کی وجہ سے بعض دفعہ بچے باغی ہو جاتے ہیں، بیویاں ڈری سہمی رہتی ہیں۔اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ باوجو د سالوں ایک ساتھ رہنے کے میاں بیوی کی علیحد گیوں تک نوبت آ جاتی ہے، علیحد گیاں ہو رہی ہوتی ہیں، بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔خاندانوں کو ان کی پریشانی علیحدہ ہو رہی ہوتی ہے۔تو اس طرح اگر سلامتی کا تحفہ بھیجتے رہیں تو یہ چیزیں کم ہوں گی۔اسی طرح جب عورتیں سلامتی کا پیغام لے کر گھروں میں داخل ہوں گی تو اپنے گھروں کی نگرانی صحیح طور پر کر رہی ہوں گی اور اپنے خاوندوں کی عزت کی حفاظت کرنے والی ہوں گی۔جب بچوں کی اس نہج پر تربیت ہو رہی ہوگی تو جوانی کی عمرکو پہنچنے کے باوجود اپنے گھر، ماں، باپ اور معاشرے کے لئے بدی کا باعث بننے کی بجائے سلامتی کا باعث بن رہے ہوں گے۔عام طور پر ٹین ایجرز (Teenagers) میں اس جوانی میں یہ بڑی بیماری ہوتی ہے، عام طور پر عادتیں کچھ بگڑ جاتی ہیں لیکن اگر شروع میں عادتیں اچھی ڈال دی جائیں تو یہ سلامتی کا پیغام بن کر گھروں میں جارہے ہوں گے۔پس یہ ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر اس سلامتی کے پیغام کو رائج کریں تا کہ ان کی اولاد میں بھی نیکی اور تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے سلامتی کا پیغام پہنچانے والی ہوں۔اور چھوٹی عمر میں یہ عادت ڈالنی چاہئے۔دیکھا ہے کہ بعض دفعہ بچے سلام نہیں کر رہے ہوتے ، ماں باپ کہہ دیتے ہیں کہ حیا کی وجہ سے، شرم کی وجہ سے یہ سلام نہیں کر رہا۔اگر بچے کے ذہن میں چھوٹی عمر میں ڈالیں گے کہ سلام میں حیا نہیں ہے بلکہ بری باتوں میں حیا ہے اور اس میں حیا کرنی چاہئے تو باتوں باتوں میں ہی پھر بچے کی تربیت بھی ہو جاتی ہے۔بعض بچے آپس میں لڑائی جھگڑے کر رہے ہوتے ہیں ہمیں نے دیکھا ہے کہ مسجد فضل کے احاطہ میں بھی کھیل کھیل میں لڑائیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور ظالمانہ طور پر ایک دوسرے کو مار بھی رہے ہوتے ہیں۔اس وقت کوئی حیا اور شرم نہیں ہوتی۔حالانکہ وہ چیزیں ہیں جن میں حیا مانع ہونی