خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد پنجم 182 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی بعض ایسی خواہیں آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بار بار ایسا اظہار ہوا جس کی وجہ سے یہ شادی ہوئی۔اس کا ذکر حضرت مولوی سرورشاہ صاحب نے جب حضرت مصلح موعودؓ کا نکاح پڑھایا، اس وقت کیا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی پیدائش کے بارے میں حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا ایک رویا بھی ہے، وہ بیان کر دیتا ہوں۔یہ مجھے میری خالہ صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ نے ایک خط میں لکھا۔انہوں نے کوئی پرانا خط تلاش کیا تھا جو ان کی والدہ کو حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے لکھا تھا یعنی ان کی والدہ سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کو جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ نے لکھا کہ میرا خیال ہے کہ میاں وسیم احمد صاحب پر یہ رویا پوری ہوتی ہے۔نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بڑی بیٹی تھیں، انہوں نے اپنی بھاوج سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کو یہ خط لکھا تھا لکھتی ہیں کہ حیرت ہے کہ ادھر آپ کے خط سے عزیزہ دلہن کے حمل کی خبر معلوم ہوئی اور میں اس شب کو خواب دیکھ چکی تھی کہ میں گویا بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو خواب میں یہ خواب بتلا رہی ہوں ( خواب میں یہ خواب بتا رہی ہیں) کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے ہاتھ پکڑ کر یہ بشارت دی ہے کہ اغلبا حفیظ اور تمہارے بھائی کے ہاں عزیزہ کے بطن سے بیٹا پیدا ہوگا اور یہ بشارت سن کر بھائی صاحب بہت خوش ہوئے ، خواب میں ہی حضرت خلیفہ امسیح الثانی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے یہی چاہا تھا کہ عزیزہ سے ہو۔حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی نے ایک موقع پر آپ کے بارے میں فرمایا کہ میں نے اپنا ایک بیٹا اس وادی غیر ذرع میں بسا دیا ہے اللہ تعالیٰ اس کو کام کی توفیق دے۔اب بظاہر تو قادیان کا علاقہ آباد اور سرسبز تھا لیکن قادیان کے درویشوں کی زندگی ابتدا میں نہایت تنگی اور خوف کی حالت میں تھی۔گو کہ مومن مشکلات میں خوف نہیں کھاتا لیکن ارد گرد کی غیر مسلم آبادی نے جو صورتحال پیدا کی ہوئی تھی وہ بڑی فکر انگیز تھی۔رہنے والوں کو بھی فکر تھی کہ جس مقصد کے لئے ہم یہاں چھوڑے گئے ہیں اس کا حق ادا کر سکیں گے یا نہیں اور دنیا کی جماعت کو بھی اور خلیفہ وقت کو بھی یہ فکر تھی ، جس کے لئے وہ دعائیں کرتے ہیں کہ کوئی خوف ان لوگوں کو جو عزم لے کے وہاں بیٹھے ہوئے تھے، اس عہد سے ہٹانے والا نہ ہو، اور وہ جو دیا مسیح میں شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے بھجوائے گئے ہیں اس کا حق ادا کرنے والے بنیں۔ان دنوں میں حالات اتنے کشیدہ تھے کہ قادیان میں رہنے والوں کو حکومتی ادارے بھی ہمیشہ شک کی نظر سے دیکھتے رہتے تھے اور پاکستان سے جو بعض ہندو سکھ وغیرہ ہندوستان آنے والے تھے، ان کی بھی دشمنی اس وجہ سے تھی کہ وہ پاکستان میں جو ظلم کا نشانہ بنے تھے یا جو بھی وجوہات تھیں، اس کی وجہ سے سخت مخالفت کی نظر سے ان