خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد پنجم 181 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء قربانی نہ دی تو لوگ پھر کس طرح قربانی دیں گے۔تقریباً انہی الفاظ میں مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے جب میں 2005 ء میں قادیان گیا ہوں تو مجھے یہ سارا واقعہ سنایا تھا۔تو وہ نوجوان جو 21 سال کی عمر میں دیار مسیح کی حفاظت کے لئے چھوڑا گیا تھا، جو دنیاوی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وجہ سے قادیان کی موروثی جائیداد کا بھی مالک تھا، جس کا باپ خلیفہ وقت تھا ، جس نے اپنے بیٹے کو یہ باور کروایا تھا کہ تمہارا قادیان میں رہنا ہی درویشان قادیان کے حوصلے بلند کرنے کا باعث بنے گا اور تمہاری وہاں موجودگی ضروری ہے۔ان سب باتوں نے میاں صاحب کو اطاعت امیر سے باہر رہنے کے خیال کو دل میں جگہ نہیں لینے دی۔بلکہ یہ احساس اور شدت سے پیدا ہوا کہ میں نے اطاعت امیر کے بھی اعلیٰ نمونے دکھانے ہیں تا کہ ہر درویش مجھے دیکھتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر اطاعت امیر کے نمونے دکھائے۔اور یہ یقیناً اُس اولوالعزم باپ کی نصیحتوں کا اثر تھا جو انہوں نے اپنے بچوں کو کی تھیں اور خاص طور پر شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے چھوڑے ہوئے اس درویش بچے کو کی تھی۔جس میں ایک انتہائی اہم نصیحت یہ بھی تھی کہ تم نے یہ خیال اپنے دل میں کبھی نہیں لانا کہ تم ناظر ہو، نو جوانی ہی میں آپ کو نظارت ملی تھی، بلکہ ہمیشہ تمہارے دل میں یہ خیال رہے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے ہو اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنی ہے اور یہی اپنی اصل حیثیت سمجھنی ہے اور اپنے آپ کو اسی حیثیت سے پیش کرنا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پوتے ہونے کے بعد کیا احساس ابھرنا چاہئے تھا؟ یقیناً یہی کہ تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آ ئیں اور یقیناً یہ کہ جس مقصد کے دعوے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تھا اس کی تکمیل کرنی ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اور جماعت کا وقار قائم کرنا ہے اور قائم رکھنا ہے۔پس یہ باتیں حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے اپنے پلے باندھیں اور عمل کیا اور نبھائیں اور خوب نبھائیں اور قادیان والوں، بھارت کی جماعتوں میں اس کو راسخ کرنے کی کوشش کی۔پس ہر مخلص احمدی کو چاہے وہ قادیان کے رہنے والے ہیں، ہندوستان کی دوسری جماعتوں کے رہنے والے ہیں یا کہیں کے بھی رہنے والے ہیں اور ہر عہد یدار کو اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہر فرد کو ایسے نمونے قائم کرنے چاہئیں۔آپ کی پیدائش کے بارے میں مختصر آبتا دوں کہ آپ حضرت عزیزہ بیگم صاحبہ جو حضرت سیٹھ ابوبکر یوسف صاحب آف جدہ کی صاحبزادی تھیں، ان کے بطن سے یکم اگست 1927ء کو پیدا ہوئے تھے۔یہاں یہ بھی ذکر کر دوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پہلے شادی کا ارادہ نہیں تھا، بلکہ کہیں اور ہو گیا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کی تقدیر یہی تھی کہ حضرت عزیزہ بیگم صاحبہ کی شادی حضرت مصلح موعودؓ سے ہو اور اس کے لئے اُم المومنین کو بھی ،