خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 183

خطبات مسرور جلد پنجم 183 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء لوگوں کو دیکھتے تھے اور کوشش یہ ہوتی تھی کہ جب موقع ملے ان کو ختم کر دیں۔ان حالات میں جبکہ باہر سے کھانے پینے کی اشیاء کی آمد بھی بند تھی۔کچھ خوراک کا جو سٹاک رکھا ہوا تھا بس وہی استعمال ہوتا تھا۔باقی کوئی آمد نہیں تھی۔ماحول بھی انتہائی خوفناک تھا۔قادیان کے ان درویشوں کے لئے جن کی تعداد چند سوتھی ، یہ وقت واقعی وادی غیر ذی زرع کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔پھر آہستہ آہستہ مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب مرحوم اور درویشوں کی کوششیں اور دعا ئیں اور خلیفہ وقت کی دعائیں اور جماعت کی دعا ئیں اپنا اثر دکھانے لگیں اور ماحول سے تعلقات بھی پیدا ہونے شروع ہوئے ، ان کے دل بھی نرم ہونے شروع ہوئے۔اور پھر یہ لوگ ، درویشان نسبتا آزادی کا سانس لینے لگے۔لیکن غربت اور مالی تنگی پھر بھی بڑے عرصہ تک قائم رہی۔اس زمانے میں درویشان کے لئے جماعتی فنڈ سے بہت معمولی سا گزارہ الا ونس مقر تھا،اس میں مشکل سےکھانا پینا ہوتا ہوگا لیکن حضرت میاں صاحب کے لئے حضرت خلیفہ آسیح الثانی کی ہدایت تھی کہ گزارہ تو اتنا ہی ملے گا لیکن اُس فنڈ سے نہیں ملے گا جو جماعت کا ہے بلکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی اپنی ذاتی امانت میں سے اُن کو یہ دیا کرتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ حالات بہتر ہوئے تو ان لوگوں کی آمدنیاں بھی شروع ہوئیں، میاں صاحب کی آمد بھی زرعی زمین سے شروع ہوئی۔بہر حال انتہائی تنگی اور ہر وقت دھڑ کے کے دن تھے جو ان لوگوں نے ، ابتدائی درویشوں نے گزارے اور یہ ان کی غیر معمولی قربانی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس بات میں بھی اللہ تعالیٰ کی گہری حکمت تھی کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ نے درویشی اور قربانی کا اس شخص کو موقع دیا جس کا ننھیال عرب سے تعلق رکھتا تھا اور اس علاقے کے قریب تھا جہاں اسماعیلی قربانی کی مثال قائم کی گئی۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کا جو خواب میں نے ابھی سنایا ہے اس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ کہ میں نے یہی چاہا کہ عزیزہ سے ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خود آنا اور بشارت دینا، یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ اس بیٹے سے اللہ تعالیٰ نے کوئی غیر معمولی کام لینا تھا اور وہ کام قربانی کا تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی قربانی قبول فرمائے۔اس قربانی کی حضرت مرزا وسیم احمد صاحب میں کتنی ناپ تھی اس کا اندازہ ان کی اس بات سے ہوتا ہے کہ میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہیں رہنے دے۔کیونکہ پہلے یہ اصول تھا کہ حضرت خلفیہ اسی الثانی کی اولاد اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد باری باری قادیان آ کر ر ہیں اور چند مہینے رہا کریں تا کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی موجود رہے۔لیکن پھر حالات ایسے ہوئے کہ یہ آنا جانا بند ہوگیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جو پاکستان میں ہیں وہ