خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 144
خطبات مسرور جلد پنجم 144 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء پس آپ کا اسوہ یہ تھا کہ کامل قدرت کے باوجود سزا سے مخالف کو بچارہے ہیں۔یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مالکیت یوم الدین آج ان لوگوں کے لئے اس دنیا میں ہی سزا کا اظہار کر سکتی ہے۔لیکن اس کی جو عفو کی صفت ہے وہ بھی اس مالکیت کے تحت ہی ہے اور آپ اس کا پر تو ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر یقین بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے تو آخری فتح یقیناً میری ہے۔اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا اور اس یقین اور عفو کی صفت کو سامنے رکھتے ہوئے فرمایا کہ اے ملک جسے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے ذریعہ جزا سزا کے لئے مقرر کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے کئی بستیاں ایسی ہیں جو نا فرمان تھیں جن کو اس طرح تباہ کر دیا گیا کہ ان کو پہاڑوں کے ذریعہ سے زمین میں دفن کر دیا گیا۔لیکن پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ نے زندگی بخشنے کا ذریعہ بھی تو بنایا ہوا ہے۔اس لئے مجھے امید ہے کہ جو روحانیت کی بارش اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ سے نازل فرما رہا ہے اور جو فیض کے چشمے مجھ سے جاری ہوں گے اور ہورہے ہیں وہ ان کی اصلاح اور زندگی کا باعث بن جائیں گے اور یہ لوگ یا ان کی نسلیں روحانیت کی لہلہاتی فصلیں بن جائیں گی۔اور دنیا گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس پیارے کی بات کو پورا فرمایا اور چند سال میں وہ سب آپ کے دامن میں آگئے۔جو آپ کے خون کے پیاسے تھے آپ کی خاطر خون بہانے لگے۔پس مالک کے آپ ﷺ کے ساتھ سلوک کے یہ نظارے ہیں۔اس زمانے میں آپ کے عاشق صادق کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمائے ہوئے ہیں جن میں سے کئی ہم نے پورے ہوتے دیکھے بلکہ بار بار پورے ہوتے دیکھے اور دیکھ رہے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی دیکھیں گے۔وہ مالک الملک ہے۔وہ آج آنحضرت علیہ کے فیض کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دنیا میں پھیلا رہا ہے اور یہ انشاء اللہ تعالیٰ پھیلے گا اور پھلے گا اور اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی غالب فرمائے گا۔آپ کو الہام ہوا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسے قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا۔۔۔۔اور خزائن اس پر کھولے جائیں گے۔“ ( تذکرہ صفحہ 148 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) پس یہ خدا کا وعدہ ہے۔یہ ملک عظیم دنیا کی حکومتیں نہیں ہیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ضرورت تھی بلکہ روحانی بادشاہت ہے۔روحانی بادشاہت کے قیام کے لئے یہ تمام دنیا آپ کو دی جائے گی۔وہ ملک دیا جائے گا جس کی حدیں کسی ملک کی جغرافیائی حدود تک نہیں بلکہ کل دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اور وہ روحانی خزائن جو آپ کو دیئے گئے وہ تقسیم ہو رہے ہیں ، آج دنیا میں ہر جگہ پہنچ رہے ہیں۔پس یہ سچے وعدوں والا خدا ہے جو ہر روز ہمیں اس عظیم ملک کی فتح کی طرف لے جارہا ہے اور اس کے نشان دکھا رہا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک اور الہام ہوا۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ جل شانہ نے یہ