خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 143

خطبات مسرور جلد پنجم 143 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء اب میں بعض احادیث سے آنحضرت لے کے اپنے نمونے ، اللہ تعالیٰ کا صفت مالکیت کے تحت آپ پر جو اظہار تھا اور آپ کا اس صفت کا پر تو بنتے ہوئے جواظہار تھا، اس کا ذکر کرتا ہوں۔ایک دفعہ ایک شخص کو آپ کے سامنے لایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ آپ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا۔جب وہ قابوآ گیا تو بہت خوفزدہ تھا، بڑا ڈرا ہوا تھا کہ اب مجھے سزا ملے گی تو آنحضرت علیہ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تو مت ڈر ، تو مت ڈر۔اگر تم ایسا کرنے کا ارادہ بھی کرتے تو تم مجھ پر مسلط نہ کئے جاتے۔(الشفاء للقاضی عیاض، جز اوّل صفحه 74- الباب الثاني۔فصل و اما الحلم دار الكتب العلمية بيروت۔طبع ثانيه (2002) تو ایک تو آپ نے باوجود اس شخص پر مقدرت رکھتے ہوئے اپنے اللہ کی عفو کی صفت کا اظہار فرمایا اور اسے معاف کر دیا۔اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے وعدے پر کامل یقین رکھتے ہوئے کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة : 68) یعنی اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملے سے محفوظ رکھے گا، اس کو یہ بتا دیا ، کہ تم ارادہ بھی کرتے تو میں جو خدا کا سچا رسول ہوں اور سب سے پیارا نبی ہوں ، جس نے میری حفاظت کی ذمہ داری لی ہوئی ہے، جس کی میں ملکیت ہوں، وہ خود ہی میری حفاظت کرے گا اور تمہیں یا تم جیسے کسی بھی اور کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گا، کبھی مسلط نہیں کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی کے ہاتھ سے قتل نہ کیا جانا ایک بڑا بھاری معجزہ ہے اور قرآن شریف کی صداقت کا ثبوت ہے۔کیونکہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی ہے کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس (المائدة: 68) اور پہلی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج تھی کہ نبی آخرالزمان کسی کے ہاتھ سے قتل نہ ہو گا“۔(البدر۔جلد 4 نمبر 31 مورخه 14 ستمبر 1905ء صفحه 2 تفسیر حضرت اقدس مسیح موعود جلد 2 صفحه 415) پھر آنحضرت ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں۔طائف کے سفر پر آپ کو غنڈوں نے لہو لہان کر دیا۔تھا۔جب نڈھال ہو کر آپ ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے، جب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی بھی مخالفین کے لئے حرکت میں آ چکی تھی۔اس وقت جبریل علیہ السلام اور آپ کے درمیان کیا باتیں ہوئیں۔لکھا ہے جب رسول اللہ ﷺ کا آپ کی قوم نے انکار کر دیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے آپ کے بارے میں تبصرے اور ان کا آپ کو جواب سن لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ملک الجبال کو یہ ارشاد فرمایا ہے کہ آپ اس کو اپنی قوم کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں۔چنانچہ ملک الجبال نے آپ کو مخاطب کیا، آپ کو سلام کیا اور کہا مجھے اپنی قوم کے بارے میں جو چاہے حکم دیں۔اگر آپ پسند کریں تو میں ان کو ان دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں۔نبی عیلی نے ملک الجبال کو مخاطب کر کے فرمایا: نہیں بلکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کرے جو خدائے واحد کی عبادت کرتے اور اس کا کسی کو بھی شریک نہ قرار دیتے ہوں۔الشفاء للقاضی عیاض، جز اوّل صفحه 184 الباب الثانى۔فصل و اما ا الشفقة۔مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت۔طبع ثانيه (2002