خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد پنجم 145 خطبہ جمعہ 6 اپریل 2007 ء خوشخبری بھی دی ہے کہ وہ بعض امراء اور ملوک کو بھی ہمارے گروہ میں داخل کرے گا اور مجھے اس نے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے“۔( تذکرہ صفحہ 8 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) فرمایا یہ برکت ڈھونڈنے والے بیعت میں داخل ہوں گے اور ان کے بیعت میں داخل ہونے سے گویا سلطنت بھی اس قوم کی ہوگی۔پھر مجھے کشفی رنگ میں وہ بادشاہ دکھائے بھی گئے۔وہ گھوڑوں پر سوار تھے اور چھ سات سے کم نہ تھے۔تذکرہ صفحہ 8 ایڈیشن چہارم مطبوعه ربوہ ) اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے الہامات کے ذریعہ سے، کشوف کے ذریعہ سے ، رویا کے ذریعہ سے، جو سلوک تھا ان میں سے ایک کشفی نظارے کا یہاں میں ذکر کرتا ہوں جس کو آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے نے بھی محسوس کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء وقد ر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔“ حضرت مسیح موعود نے قضاء و قدر کے احکام اپنے ہاتھ سے لکھے " کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جلشانہ کے سامنے پیش کیا ہے“۔فرمایا کہ " اور یا درکھنا چاہئے کہ مکاشفات اور رویا صالحہ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بعض صفات جمالیہ یا جلالیہ الہیہ انسان کی شکل پر متمثل ہو کر صاحب کشف کو نظر آ جاتے ہیں اور مجازی طور پر وہ یہی خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادر مطلق ہے اور یہ امر ارباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے“۔یعنی جو صاحب کشف ہیں ان کو اس کی حقیقت پتہ ہے ” جس سے کوئی صاحب کشف انکار نہیں کر سکتا فرماتے ہیں کہ " غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت متخیلہ ( یعنی سوچنے کی جو قوت تھی) کے آگے ایسی دکھائی دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے۔اس ذات بے چون و بے چگون کے آگے ( جو بے مثل ہے، لاثانی ہے، جس کی کوئی مثال نہیں ) وہ کتاب قضاء وقد ر پیش کی گئی اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثل تھا، اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو اس عاجز کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ میں رہ گیا۔اس سے اس کتاب پر دستخط کر دیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دور ہو گئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے۔چنانچہ ایک صاحب عبد اللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔دو یا تین قطرہ سرخی کے ان کی ٹوپی پر پڑے۔پس وہ سرخی جو ایک امر کشفی تھا۔وجود خارجی پکڑ کر نظر آ گئی۔اسی طرح اور کئی مکاشفات ہیں جن کا لکھنا موجب تطویل ہے مشاہدہ کیا گیا ہے۔( تذکرہ صفحہ 100-102 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ )