خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 51

خطبات مسرور جلد پنجم 51 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007 ء ہے۔عام خدمتگار عورتوں کی نسبت بھی آپ کا یہی رویہ ہے۔کئی کئی دفعہ ایک آتی ہے اور مطلوبہ چیز مانگتی ہے اور پھر اس چیز کو مانگتی ہے۔ایک دفعہ بھی آپ نہیں فرماتے کہ کمبخت کیوں دق کرتی ہے جو کچھ لینا ہے ایک ہی دفعہ کیوں نہیں لے لیتی۔بارہا میں نے دیکھا کہ اپنے اور دوسرے بچے آپ کی چار پائی پر بیٹھے ہیں اور آپ کو مضطر کر کے پائنتی پر بٹھا دیا ہے اور آپ بچپنے کی بولی میں مینڈک کوے اور چڑیا کی کہانیاں سنارہے ہیں اور گھنٹوں سنائے جارہے ہیں اور حضرت ہیں کہ بڑے مزے سے سنے جارہے ہیں۔گویا بچے کہانیاں اپنی اپنی زبان میں سنا رہے ہیں اور حضرت سن رہے ہیں۔گویا کہ مثنوی ملائے روم کوئی سنا رہا ہے۔حضرت بچوں کو مارنے اور ڈانٹنے کے سخت مخالف ہیں۔بچے کیسے ہی بسوریں ، شوخی کریں ، سوال میں تنگ کریں، بے جا سوال کریں اور ایک موہوم اور غیر موجود شے کے لئے حد سے زیادہ اصرار کریں آپ نہ تو کبھی مارتے ہیں، نہ جھڑکتے ہیں اور نہ کوئی خفگی کا نشان ظاہر کرتے ہیں۔سیرت حضرت مسیح موعود مصنفه حضرت مولانا عبد الكريم سيالکوٹی صاحب صفحہ 34-35) میں پہلے بھی ایک دفعہ کہہ چکا ہوں۔دوائیوں کا جہاں ذکر آیا تھا کہ ہمارے ڈاکٹروں کو یہ اسوہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ان کا تو کام ہی مریضوں کو دیکھنا ہے، اور تو کوئی کام ہی نہیں ہے کہ وہ کام چھوڑ کر یہ کام کر رہے ہوں۔ان کو ہمیشہ مریضوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ایک ڈاکٹر کے لئے بہت ضروری ہے اور خاص طور پر واقفین زندگی ڈاکٹروں کے لئے کیونکہ آدھی بیماری مریض کی مریض سے آرام سے بات کرنے سے دور ہو جاتی ہے۔تو اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔بعض لوگ آپ کی ہمدردی اور رحمت کے جذبے سے فائدہ بھی بہت اٹھاتے تھے۔حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ منشی غلام محمد امرتسری ایک اچھے کا تب تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابتداء میں منشی امام الدین صاحب امرتسری سے کام لیا کرتے تھے۔چنانچہ براہین احمدیہ کی پہلی تین جلدیں، شحنه حق اور سرمہ چشم آریہ وغیرہ اسی کی لکھی ہوئی ہیں۔اور آئینہ کمالات اسلام کا ایک بڑا حصہ بھی اسی نے لکھا ہے۔مگر پھر آپ منشی غلام محمد صاحب سے کام لینے لگے۔کہتے ہیں منشی غلام محمد صاحب بھی عجیب نخرے کیا کرتے تھے۔مختلف طریقوں سے اپنی مقررہ تنخواہ سے زیادہ وصول کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان باتوں کو سمجھتے تھے مگر ہنس کر خاموش رہتے تھے۔کہتے ہیں کہ ایک روز مسجد میں ظہر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور حضرت مسیح موعود نماز کے بعد بیٹھ گئے آپ کا معمول یہی تھا کہ عام طور پر فرض پڑھ کر تشریف لے جاتے تھے مگر کبھی بیٹھ بھی جایا کرتے تھے۔آپ نے ہنس کر اور خوب ہنس کر فرمایا کہ آج عجیب واقعہ ہوا ہے۔میں لکھ رہا تھا تو منشی غلام محمد صاحب کا بیٹا روتا اور چلا تا ہوا بھا گا آیا اور پیچھے پیچھے منشی صاحب بھی جوتا ہاتھ میں لئے شور مچاتے ہوئے آئے کہ باہر نکلومیں تمہیں مار ڈالوں گا اور جان سے مار دوں گا اور یہ کر دوں گا۔حضرت اقدس یہ شور سن کر باہر نکلے ہمنشی صاحب سے