خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 52
52 خطبہ جمعہ 02 فروری 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پوچھا کہ کیا ہوا؟ منشی صاحب یہی کہتے جاتے تھے کہ نہیں آج میں نے اس کو مار دینا ہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پوچھا بتاؤ تو سہی بات کیا ہوئی ہے۔تو اس نے کہا میں نے اس کو نیا جوتا لے کے دیا تھا وہ اس نے گم کر دیا ہے۔تو حضور نے ہنس کے فرمایا منشی صاحب اس پر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے جو تا میں خرید دوں گا۔اصل میں تو پتہ نہیں نیا جو تا لیا تھا کہ نہیں لیکن بچے کو نیا جوتا دلوانا تھا اس لئے اتنا شور مچایا تھا۔لکھتے ہیں کہ ان کا بھی عجیب حال تھا تنخواہ کے علاوہ بھی خوراک وغیرہ کا خرچ بھی آپ دیتے ، کھانا بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر سے ہی کھاتے۔پھر کپڑے اور سردی کے موسم میں بستر اور گرم کوٹ وغیرہ سب کچھ لیتے تھے۔اس کے باوجود باتوں باتوں میں اس طرح کی باتیں کر کے زائد بھی لے لیا کرتے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کبھی ناراض نہیں ہوتے تھے۔اور نہ اس کو علیحدہ کیا بلکہ ناز برداریاں ان کی برداشت کرتے رہے اور کام دیتے رہے۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه 353-354) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب فقیر محمد صاحب بڑھئی تھے، انہوں نے بذریعہ تحریر مجھے بیان دیا کہ ہمارا زمینداری کا کام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زمینوں پر مزارع تھے۔ایک دفعہ بارش بہت کم ہوئی فصل خراب ہو گئی۔دانے کھانے کے واسطے بھی بہت کم تھے۔ادھر حضرت صاحب کے مختار حامد علی صاحب معاملہ لینے کے لئے آگئے۔سب آدمیوں نے مل کر عرض کی کہ دانے بہت کم ہیں معاملے کے واسطے اگر بیچ دیئے جائیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔حامد علی صاحب نے جا کر ، حضرت صاحب کی خدمت میں جا کر اسی طرح کہہ دیا۔آپ نے فرمایا ”اچھا اگلے سال معاملہ لے لینا اس وقت رحم کرو “ چنانچہ اگلے سال اس قدر فصل ہوئی کہ دونوں معاملے ادا ہو گئے۔آپ غرباء پر بہت رحم فرمایا کرتے تھے۔(ماخوذ از د سیرت المهدى جلد دوم حصه پنجم روایت نمبر 1293 صفحه 193-192 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوه) پس احمدی زمینداروں کو یہ یا درکھنا چاہئے جس طرح کہ میں نے وقف جدید کے نئے سال کا جب اعلان کیا تو سندھ کے زمینداروں کو خاص طور پر خطبے میں کہا تھا کہ تھر کے جو غریب لوگ آتے ہیں ان کے لئے جذبہ رحم دل میں پیدا کریں۔ایک تو ان کو مزدوری پوری دیا کریں اور جس حد تک بہتر سلوک ان سے ہو سکتا ہے کرنا چاہئے۔یہ بھی اس علاقے میں تبلیغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔پھر صرف انسان ہی نہیں باقی مخلوق کے لئے بھی جذ بہ رحم تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی سب صفات کو اختیار کرنے کا سب سے بہترین نمونہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قائم ہوا وہ آپ میں تھا۔