خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 362

خطبات مسرور جلد پنجم 362 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء کے اس حکم کو ہمیشہ یادرکھیں کہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ (ابراهیم : 8) یعنی اے لوگو ! اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔پس اللہ تعالیٰ کے یہ انعام پہلے سے بڑھ کر نازل ہوں گے اگر ہم اس کا شکر گزار بندہ بنے رہیں گے۔اگلے سال انشاء اللہ تعالیٰ خلافت جو بلی سال کا جلسہ آ رہا ہے۔امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ حاضری بھی اس سال سے زیادہ ہوگی اور انتظامات بھی اس سال سے شاید زیادہ وسیع کرنے پڑیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو بھی پہلے سے بڑھ کر یا د رکھیں کہ تمہارے انتظامات کی بہتری میری مرہونِ منت ہے۔اس لئے ہمیشہ میرے پہلے انعاموں پر ، احسانوں پر ، رحمانیت کے جلوے دکھانے پر پہلے سے بڑھ کر شکر گزار بندے بنتے ہوئے میرے آگے جھکنے والے بنو۔انتظامات کی احسن رنگ میں سرانجام دہی کو صرف اپنی ہوشیاری اور چالا کی اور عقل اور محنت پر محمول نہ کرو بلکہ میری خاطر کئے گئے کاموں میں، اللہ تعالیٰ کی خاطر کئے گئے کاموں میں، اُسی وقت برکت پڑے گی جب اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنتے ہوئے ، جب اللہ تعالیٰ کا عبد شکور بنتے ہوئے، اللہ کے آگے جھکتے ہوئے اس کا شکر گزار بنو گے۔پھر اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جتنی چاہے کام میں وسعت پیدا ہو جائے ، جتنی چاہے بظاہر انتظامات میں دقتیں نظر آتی ہوں، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کے لئے ہر وقت موجود ہوگا، بلکہ پہلے سے بڑھ کر انعامات اور افضال کی بارش برسائے گا۔پس اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے دل و دماغ کو تازہ رکھیں گے تو یہ شکر گزاری بڑھے گی اور شکر گزاری کا اظہار ہوگا جس سے فضلوں کی بارش ہمیشہ جماعت پر ہوتی رہے گی۔آنحضرت ﷺ کا کیا اُسوہ تھا۔آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے ذکر کرنے والا اور اپنا شکر کرنے والا بنا۔(سنن ابی داؤد کتاب الوتر باب مايقول الرجل اذا سلّم حدیث نمبر (1510) پھر شکر گزاری کے لئے آنحضرت ﷺ کا یہ فرمان بھی ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری ہے، دوسرے فرمایا اللہ کے ان بندوں کا بھی شکر گزار بنو جنہوں نے تمہاری کسی نہ کسی رنگ میں کسی نہ کسی معاملے میں مدد کی۔کیونکہ اگر تم اللہ کی مخلوق سے فیض پاکر اس کے شکر گزار نہیں بنتے تو پھر اللہ تعالیٰ کے شکر کی عادت بھی تم میں پیدا نہیں ہو گی۔پس جماعتی انتظامات جس کے لئے انتظامیہ کوشش کرتی ہے اس کے لئے جماعتی انتظامیہ کو بھی اور ان لوگوں کو بھی ، ان تمام کارکنان کا شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں جلسے کے انتظامات میں کوئی کردار ادا کیا ہو، کوئی کام کیا ہو، کوئی خدمت کی ہے جس سے جلسے کے کاموں میں آسانی پیدا ہوئی ، جس سے لوگوں کو سہولت سے جلسہ سننے کا موقع فراہم ہوا۔بڑے آرام اور سکون سے تمام لوگوں نے ، نہ صرف جلسہ سنا بلکہ رہائش، کھانے اور دوسرے انتظامات میں بھی کم سے کم تکلیف میں یہ دن گزرے۔ظاہر ہے جب ایسے وسیع انتظامات