خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 361

خطبات مسرور جلد پنجم 361 (36 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء فرمودہ مورخہ 07 ستمبر 2007ء بمطابق 07 رتبوک 1386 ہجری شمسی بمقام Martin Buber Schole Hall گروس گیراو (جرمنی) تشہد ، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: الحمد للہ ! گزشتہ اتوار کو جماعت احمد یہ جرمنی کا سالانہ جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اختتام کو پہنچا۔آج اس جلسے کے حوالے سے ہی کچھ باتیں کروں گا۔ان جلسوں کی تیاری کے لئے ہر سال ٹیمیں بنائی جاتی ہیں جن کے سپرد مختلف کام کئے جاتے ہیں۔ایک شوق ہوتا ہے، ایک لگن ہوتی ہے جس کے تحت تمام ڈیوٹیاں دینے والے اپنے فرائض ادا کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں۔مجھے بھی جلسے سے پہلے دنیا کے ہر اس ملک سے جہاں جلسے منعقد ہو رہے ہوتے ہیں احمدی خط لکھ رہے ہوتے ہیں کہ دعا کریں تمام انتظامات بخیر و خوبی اپنے انجام کو پہنچیں۔یہی حال جرمنی کے کارکنان اور مختلف شعبہ جات کے افسران کا ہوتا ہے۔بہر حال یہ جماعت کا ایک مزاج ہے، ان کی تربیت ہے اور خدا تعالیٰ سے تعلق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کی تربیت کر کے احمدی کا خدا تعالیٰ سے پیدا کیا ہے اور اس رب العالمین اور رحمن اور رحیم کی پہچان کروائی ہے جس نے اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کے ذریعے اپنی صفات کا فہم و ادراک ہمیں عطا کروایا۔ہمیں اپنے عطا کردہ وسائل اور طاقتوں کا صحیح اور استعدادوں کے مطابق استعمال کرتے ہوئے ان سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی جس سے سارے ڈیوٹیاں دینے والے جلسے کے انتظامات اپنی عقل کے مطابق بہترین رنگ میں کرنے کے قابل ہوئے اور جیسا کہ میں نے کہا اس عرصہ میں جب انتظامات کی تیاری ہو رہی تھی ، خود بھی ان سب کارکنوں کی دعاؤں کی طرف توجہ رہی اور مجھے بھی دعا کے لئے لکھتے رہے کیونکہ اس کے بغیر ہر احمدی جانتا ہے کہ ہمارا کام ادھورا ہے اور اگر یہ نہیں تو اللہ تعالیٰ سے تعلق کا دعویٰ صرف دعوی رہے گا۔پس ہمارے کام میں برکت بھی اسی لئے پڑتی ہے کہ ہم اس خدا کے آگے جھکنے والے ہیں جس کے قبضہ قدرت میں سب کچھ ہے اور وہ تمام مراحل میں ہماری کوششوں کو قبول فرماتے ہوئے ان میں برکت ڈالتا ہے۔پس جہاں جلسے کا کامیاب انعقاد اور اختتام ہر کارکن کے لئے سکون اور خوشی کا باعث بنتا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ کے اس پیار بھرے سلوک کو اسے اللہ تعالیٰ کے آگے مزید جھکنے والا اور شکر گزار بنانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ