خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 363

خطبات مسرور جلد پنجم 363 خطبہ جمعہ 7 ستمبر 2007 ء ہوتے ہیں تو گھر جیسی سہولت تو بہر حال نہیں ہوتی، سفر میں کچھ نہ کچھ تکلیف تو برداشت کرنی پڑتی ہے لیکن زیادہ سے زیادہ بہتر انتظامات کی حالات کے مطابق انتظامیہ کوشش کرتی ہے اور کارکنان اس کے مطابق کام کرتے ہیں اور یہ کام کارکنان کے اخلاص کی وجہ سے انجام کو پہنچتا ہے جس میں مرد بھی شامل ہیں ، عورتیں بھی شامل ہیں ، لڑکے بھی، لڑکیاں بھی اور سب ایک جوش کے ساتھ یہ کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا یہ مزاج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں میں پیدا کیا ہے اور یہ غیروں کو بھی نظر آتا ہے۔مالٹا کے ایک ممبر پارلیمنٹ اور انڈونیشیا سے آئے ہوئے دو بڑے اسلامی سکالرز یہ اعتراف کر گئے ہیں کہ آپ کے انتظامات میں ایک عجیب ڈسپلن تھا اور اسی طرح اور غیر مسلم عیسائی، بلغاریہ سے بھی آئے ہوئے تھے اس بات کو دیکھ کر حیران ہوتے تھے اور اس بات کا بر ملا اظہار کیا کہ تم لوگ عجیب قسم کے لوگ ہو، کس طرح جلسے کے تمام انتظام خود ہی بغیر کسی حکومتی مدد کے کر لیتے ہو۔اور پھر اس بات پر بھی حیران تھے کہ ڈسپلن (Discipline) بھی جیسا کہ میں نے کہا کس طرح عمومی طور پر قائم رہتا ہے اور ڈسپلن کا بڑے احسن طریق پر شامل ہونے والے کی طرف سے بھی اور ڈیوٹی دینے والوں کی طرف سے بھی اس کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔ہم احمدی اپنے مزاج کے مطابق بعض دفعہ جس کام کو کم معیار کا سمجھتے ہیں، یہ لوگ اس کو بھی اعلیٰ معیار کا سمجھتے ہیں۔بعض دفعہ بعض بے قاعدگیاں جو ہمیں برداشت نہیں ہو رہی ہوتیں ، ان کے لئے ناریل ہوتی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ غیروں کے آگے جماعت کی عزت و وقار قائم رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل کے شکرانے کے طور پر بھی ہمارے معیار مزید بہتر ہونے چاہئیں، مزید بہتر ہونے کی کوشش ہونی چاہئے اور اس کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے اور اس کا ذکر کرنے کے معیار بھی پہلے سے بڑھنے چاہئیں اور جب تک ہم اس سوچ کے ساتھ اپنے امور سرانجام دیتے رہیں گے ، ان کو سرانجام دینے کی کوشش کرتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہماری مشکلات خود بخود دور ہوتی چلی جائیں گی۔ہمارے کاموں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود بخود آسانیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی۔پاکستان سے آنے والے بھی اور دوسرے ممالک سے آنے والے بھی ، جرمنی کے جلسے کو دیکھ کر اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ یہاں کے کارکنان عموماً ایک مشین کے گل پُرزوں کی طرح بغیر کسی دقت کے بغیر کسی ہنگامے کے کام کر رہے ہوتے ہیں۔گو کہ یہ مزاج اب میرے خیال میں جہاں جہاں بھی جماعت کے جلسے ایک عرصے سے ہو رہے ہیں اور بڑے جلسے ہوتے ہیں، یو کے کے جلسوں میں بھی اور باقی جلسوں میں بھی قائم ہو چکا ہے اور ایک لمبے عرصہ کے جلسوں کے انعقاد کی وجہ سے کارکنان عموماً دنیا میں جہاں بڑی جماعتیں ہیں اس وجہ سے کافی تجربہ کار ہو