خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 238

خطبات مسرور جلد پنجم 238 خطبہ جمعہ 8 جون 2007ء گیا ہے۔لیکن احمدی کی تو بہر حال یہ کوشش ہونی چاہئے کہ یہ جو بھرم ہے ہمیشہ قائم رہے، کسی کے آگے وہ ہاتھ پھیلانے والا نہ ہو۔لیکن جو عزیز رشتہ دار بہتر حالات میں ہیں ان کو چاہئے کہ ایسے طریق پر کہ جس سے کسی قسم کا احساس نہ ہو ان کی مدد کی جائے۔کچھ سال ہوئے مجھے کسی نے ایک خاتون کا واقعہ بتایا۔ان کے عزیز جو باہر تھے کچھ مدد کیا کرتے تھے اور اچھا گزارا اُس سے ہو جایا کرتا تھا۔کچھ عرصہ اس عزیز کے حالات کی وجہ سے یا کسی وجہ سے کوئی مدد نہیں آئی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فاقے ہونے لگے، بہت مشکل سے گزارا ہونے لگا۔ایک وقت کی ہی روٹی کھائی جاتی تھی۔وہ خاتون کہتی ہیں کہ ایک دن میں جارہی تھی تو راستے میں مجھے آٹھ آنے یا ایک روپیہ گرا ہوا نظر آیا تو اس کو اٹھانے لگی۔پھر خیال آیا کہ بس ذرا سے ابتلاء سے، امتحان سے گھبرا گئی اللہ پر تو کل چھوڑ دیا۔اس روپے پر تمہاری نظر ہوگئی۔پتہ نہیں کس کا ہے، کون آ کر اٹھا لے، یہ تو چوری ہے۔بہر حال ان کے جو بھی احساس و جذبات تھے انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور حالات ایسے تھے کہ بچے بھی بیچارے بڑی مشکل سے گزارا کر رہے تھے۔ان کو بھی سمجھاتی رہیں کہ حالات اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں صبر کرنا چاہئے اور جو بھی حالات ہوں اگر غربت کے حالات ہوں تو ان میں اور زیادہ خدا کی طرف جھکنے والا بنا چاہئے۔بہر حال کہتی ہیں کہ جب میں اس کے بعد گھر آئی تو کوئی صاحب آئے ہوئے تھے جو ان کو مدد بھیجا کرتے تھے۔انہوں نے لفافہ دیا اس میں پہلے سے کئی گنا زیادہ رقم تھی۔تو بعض لوگوں کے حالات ایسے بھی ہوتے ہیں۔اگر کچھ عرصہ اور وہی رقم نہ آتی تو ہوسکتا تھا کہ اس کے بچوں میں کسی قسم کے ایسے خیالات پیدا ہو جاتے جس سے معاشرے سے نفرتیں پیدا ہوتیں ، اللہ تعالیٰ پر بدظنی پیدا ہوتی اور اسی طرح کے واقعات ہوتے ہیں جس سے پھر گھروں کی سلامتی بھی اٹھ رہی ہوتی ہے۔تو ہمیشہ ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے جو جو حکم دیئے ہیں سارے بڑے پر حکمت احکامات ہیں۔بہر حال یہ بات ہو رہی تھی کہ معاشی حالات بھی سلامتی میں کردار ادا کرتے ہیں۔اس بارے میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔(الذاريت: (20) اور ان کے اموال میں سوال کرنے والوں اور بے سوال ضرورتمندوں کے لئے ایک حق تھا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ۔ذلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأَوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الروم : 39) پھر آگے فرماتا ہے وَمَا آتَيْتُمُ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوا فِى اَمْوَالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللهِ۔وَمَا اتَيْتُم مِّنْ زَكوة تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ۔(الروم: 40) اس کا ترجمہ ہے کہ پس اپنے قریبی کو اس کا حق دو نیز مسکین کو اور مسافر کو۔یہ بات ان لوگوں کے لئے اچھی ہے