خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 239
239 خطبہ جمعہ 8 جون 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اور اگلی آیت میں ہے کہ جو تم سود کے طور پر دیتے ہوتا کہ لوگوں کے اموال میں مل کر وہ بڑھنے لگے تو اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا اور اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تم جو کچھ زکوۃ دیتے ہو تو یہی ہیں وہ لوگ جو اسے بڑھانے والے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ توجہ دلائی ہے کہ اپنے قریبیوں کو ، ضرورت مندوں اور مسکینوں کو ، مسافروں کو ان کا حق دو۔اور حق کیا ہے؟ ان کا حق یہ ہے کہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے جو لوگ بہتر حالت میں ہیں، جن کی مالی حالت بہتر ہے، جو مالی کشائش رکھتے ہیں وہ اپنے غریب بھائیوں کے لئے خرچ کریں۔وہ اس طبقے کے لئے خرچ کریں جن میں قریبی بھی ہیں ،ضرورت مند بھی ہیں، مسکین بھی ہیں، مسافر بھی ہیں۔کیونکہ اگر معاشرے کے ہر طبقے کا خیال نہیں رکھتے ، اپنے بھائیوں کو معاشرے میں ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیتے ہو تو یہ چیز ایسے کمزور طبقے کو پھر جرائم پر مجبور کرے گی۔اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے وہ بعض ایسے کام کرنے پر مجبور ہوں گے جس سے معاشرے کا امن برباد ہو گا۔غریب اور ضرورت مند طبقہ اپنی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے بعض دفعہ اپنے سے بہتر کے لئے ، امیروں کے لئے ، دلوں میں بغض اور کینے پال رہا ہوتا ہے۔اور ان کی سوچ سے فائدہ اٹھا کر پھر جو مفاد پرست ہیں اُن کو معاشرے میں فساد کے لئے اپنے ساتھ ملاتے ہیں۔آپ دیکھ لیں کہ عموماً ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو کم از کم غریب ممالک میں یا کم ترقی یافتہ ممالک میں فساد پیدا کرنے کے لئے ایسے لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلتے ہیں جن کے مالی حالات اچھے نہیں ہوتے۔ایسے لوگ امراء کے خلاف بھی آواز میں اٹھاتے ہیں۔اپنے ملکوں کے جو بہتر کشائش رکھنے والا طبقہ ہے اس کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہیں اور حکومت کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہیں۔ہڑتالیں بھی ہوتی ہیں، قانون شکنیاں بھی ہوتی ہیں اور ملک میں فساد برپا ہو جاتا ہے۔تاریخ ہمیں یہ فساد دکھاتی رہی ہے اور آج بھی ہم کئی ملکوں میں یہ حالت دیکھ رہے ہیں۔تو فسادوں کے عوامل میں سے ایک بہت بڑی وجہ یہ معاشی بدحالی بھی ہے اور پھر یہ بات یہیں نہیں رکتی بلکہ ایسا طبقہ پھر خدا سے بھی دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اس طرح جو طبقہ اپنے پیسے کو صرف اپنے تک محدود رکھتا ہے، غریبوں کا حق ادا نہیں کرتا ، وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے دور ہٹتا چلا جاتا ہے۔اسلام کا دعویٰ تو کامل اور مکمل مذہب ہونے کا ہے جس میں ہر بات کا ، ہر طبقے کی ہر ضرورت کا خیال رکھا گیا ہے تا کہ معاشرہ بھی پر امن رہے اور اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف بھی توجہ رہے اور اس کا حق بھی ادا ہوتا رہے۔پس ایک مسلمان کی پاک عملی حالتیں ہی ہیں جو اسے اسلام کا صحیح نمونے دکھانے والا بناتی ہیں۔اس تعلیم کا پرتو دکھاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے ورنہ صرف مسلمان ہونے کا دعویٰ تو کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پس جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے اللہ تعالیٰ کے احکامات میں سے ایک حکم معاشرے کے کمزور اور غریب طبقے کی معاشی حالت کو بہتر کرنا