خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 498 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 498

498 خطبات مسرور جلد پنجم خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء حَكِيمٌ (البقرة: 210) تو کہتے ہیں کہ عزیز وہ ہے جو اپنے امر پر غالب ہے۔کوئی چیز اسے تم سے نافرمانوں سے انتقام لینے سے نہیں روکتی۔لیکن وہ حکیم بھی ہے جو مجرموں کا مواخذہ کرتے ہوئے حکمت کے تقاضوں کو ترک نہیں کرتا۔پھر دوسری آیت کے بارے میں ہی بیان کرتے ہیں کہ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنُ۔قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِى۔قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرُهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيْنَكَ سَعيًا ، وَاعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ (البقرة: 261) کہ اور کیا تو نے اس پر بھی غور کیا جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب ! مجھے دکھلا کہ تو مر دوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟ اس نے کہا کیا تو ایمان نہیں لا چکا؟ اس نے کہا کیوں نہیں؟ مگر اس لئے پوچھا ہے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے ، اس نے کہا تو چار پرندے پکڑ لے اور انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لے۔پھر ان میں سے ایک ایک کو پہاڑ پر چھوڑ دے پھر انہیں بلا۔وہ جلدی کرتے ہوئے تیری طرف چلے آئیں گے اور جان لے کہ اللہ غلبہ والا اور بہت حکمت والا ہے۔ابن عباس کہتے ہیں یہاں صرف حکیم کے معنی استعمال کئے ہیں کہ اپنے تمام افعال میں حکمت بالغہ سے کام لینے والا ، اس کے افعال کی بناروزمرہ کے اسباب پر نہیں کیونکہ وہ خارق عادت نشان دکھانے سے عاجز نہیں بلکہ اس کے جملہ افعال اپنے اندر بے شمار حکمتیں اور مصلحتیں لئے ہوئے ہیں۔نشانات اللہ تعالیٰ دکھا سکتا ہے اور ایسے ایسے عجیب نشان دکھاتا ہے کہ بندہ وہاں تک پہنچ نہیں سکتا۔اس آیت میں حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے نشان مانگا ہے جس کا ذکر ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا جواب یہ ہے جو ابھی پڑھا گیا۔مفسرین اس کو ظاہری ایمان پر محمول کرتے ہیں اور بعض کی عجیب عجیب اس بارے میں تفسیریں ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس کی تفسیر کی ہے۔میں اس کا مختصر ذکر کرتا ہوں جو اس کی حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے۔اس میں حضرت ابراہیم نے یہ دعا کی کہ احیاء موتی کا کام جو میرے سپرد ہے وہ کس طرح ہوگا؟ مردوں کو یعنی روحانی مردوں کو زندہ کرنے کا کام جو میرے سپرد ہے وہ کس طرح ہوگا ؟ تو اے اللہ ! تو ہی مجھے دکھا کہ قوم میں زندگی کس طرح پیدا ہوگی جبکہ میں بوڑھا ہوں اور کام بھی بے انتہا اہم ہے۔یہ کس طرح پورا ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چار پرندے لے کر ان کو سدھا، انہیں پہاڑوں پر رکھ دے وہ تیری طرف آئیں گے۔تو اس کی تشریح میں فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت کر۔وہ تیری آواز پر لبیک کہتے ہوئے احیاء دین کے کام کی تعمیل کریں گے اور یہ روحانی پرندے حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف ہیں، ان میں سے دو کی حضرت ابراہیم نے براہ راست تربیت کی اور دو کی بالواسطہ۔پہاڑ پر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے رفیع الشان، رفیع الدرجات ہونے کی طرف اشارہ ہے۔اور چار پرندوں کو علیحدہ علیحدہ پہاڑ پر رکھنے سے یہ بھی