خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 499
499 خطبہ جمعہ 07 دسمبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم مراد ہے کہ احیاء دین چار مختلف وقتوں میں ہوگا۔ایک تو پہلے زمانے میں ہوا۔پھر کیونکہ حضرت ابراہیم نے دعا بھی کی تھی کہ میں اپنی اولاد کے بارے میں بھی یہ نشان دیکھنا چاہتا ہوں یعنی بعد میں آنے والوں میں بھی یہ نشان ظاہر ہو کہ وہ احیاء موتی کرنے والے ہیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری قوم چار مرتبہ مُردہ ہوگی اور ہم چار مرتبہ زندہ کریں گے۔چنانچہ حضرت موسی کے زمانے میں پہلے یہ آواز بلند ہوئی جو حضرت ابراہیم کی آواز تھی۔پھر حضرت عیسی کے ذریعہ سے آواز بلند ہوئی۔پھر آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے آواز بلند ہوئی اور اب اس زمانہ میں چوتھی مرتبہ وہ آواز بلند ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے بلند ہوئی۔پس پہلا پرندہ موسوی امت تھی ، دوسرا پرندہ عیسوی امت تھی اور تیسرا پرندہ آنحضرت ﷺ کی امت تھی جن پر آپ کا جلالی ظہور ہوا اور چوتھا پرندہ جمالی ظہور کی مظہر جماعت احمدیہ ہے جن کے ذریعہ سے حضرت ابراہیم کے قلب کو راحت پہنچی اور نزدیک اور دُور کی اولاد کے زندہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ نے نظارے دکھائے اور یہی خدا تعالیٰ کے عزیز اور حکیم ہونے کا اظہار ہے اور یہ زندہ ہونا اب ہم پر بحیثیت احمدی ایک ذمہ داری بھی ڈالتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق جو احیاء موتی اس زمانے میں ہونا تھا اس نے دائمی رہنا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی پر حکمت تعلیم جو تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اس سے چھٹے رہنا ضروری ہے تا کہ ہر فرد جماعت احیاء موتی کا نظارہ دکھانے والا بھی ہوا اور دیکھنے والا بھی ہو۔پس جب تک ہم تقویٰ پر قائم رہیں گے یہ نظارے انشاء اللہ دیکھتے رہیں گے۔پھر حضرت ابن عباس ایک مثال میں بیان کرتے ہیں کہ اَفَغَیرَ اللَّهِ ابْتَغِی حَكَمًا۔سورۃ الانعام کی 115 ویں آیت ہے۔کہتے ہیں کہ حکم اپنے معنے کے اعتبار سے حاکم سے وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔حکم اس حاکم کو کہتے ہیں جس کا کوئی ہمسر نہ ہو اور جسے اس کام کے لئے بطور خاص مختص کیا گیا ہو۔اسی وجہ سے حکم کی صفت صرف عادل کے لئے آتی ہے یا اس کے لئے استعمال ہوتی ہے جسے بار بار فیصلے کرنے کا موقع ملتا ہے۔یہ جو آیت ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جو میرا احکم ہے اس کے علاوہ کسی اور کوئیں کیوں حکم بناؤں کسی اور کے پاس فیصلے کروانے کے لئے کیوں جاؤں؟ یا فیصلے کرانے کے لئے اللہ کے علاوہ دوسرے انسانوں کو کیوں بلاؤں؟ جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے اور وہ سب سے زیادہ بہترین فیصلہ کرنے والوں میں سے ہے۔مخالفین دین آج جتنا بھی شور مچاتے رہیں کہ ہم فیصلہ کرتے ہیں، ایک مومن کا یہی جواب ہونا چاہئے اور ہوتا بھی ہے کہ افَغَيْرَ اللهِ ابْتَغِى حَكَمًا (الانعام: 115) یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ میں کوئی اور فیصلے کرنے والا ڈھونڈوں؟ مجھے تو کسی دوسرے کی حاجت نہیں ہے۔میں تو اس یقین سے پر ہوں اور میں اس یقین پر قائم ہوں کہ اللہ جو حکیم اور حکم ہے اس نے ایک ایسی پر حکمت تعلیم کی طرف میری رہنمائی کر دی ہے اور ایسے فیصلہ گن نشان دکھا دیئے ہیں کہ مجھے ضرورت نہیں کسی اور کے پاس جانے کی۔جس مرضی نام نہاد عالم کی یا بڑے آدمی کی