خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 485

خطبات مسرور جلد پنجم 485 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء اس معبود حقیقی کی طرف جھکتے چلے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کے مقام عبودیت کا حقیقی فہم و ادراک دلواتے ہوئے ہمیں اس اُسوہ پر چلنے کی تلقین فرمائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دنیا میں ایک رسول آیا تا کہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صد ہا سال سے بہرے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ کون اندھا ہے اور کون بہرا، وہی جس نے تو حید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر تو حید کو قائم کیا۔وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان یعنی بچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الہی رنگ سے رنگین کیا۔وہی رسول، ہاں وہی آفتاب صداقت ، جس کے قدموں پر ہزاروں مردے شرک اور دہریت اور فسق و فجور کے جی اٹھے۔(مجموعه اشتهارات جلد دوم صفحه 8 جدید ایڈیشن مطبوعه (ربوه پس حقیقی با اخلاق وہی ہے جو ظاہری اخلاق سے ترقی کر کے معبود حقیقی کی پہچان کرے اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کا یہی مقصد تھا کہ آپ دنیا کو معبود حقیقی کی پہچان کروانے کے لئے آئے تھے اور آپ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا بھی یہی مقصد ہے اور آپ کو ماننے والوں ، وہ جوحقیقی ماننے والے ہیں، کا بھی یہی مقصد ہونا چاہئے۔کہ صرف ظاہری دنیا وی اخلاق ہی سمح نظر نہ ہوں بلکہ معبود حقیقی کا حقیقی عابد بننے کی ہم کوشش کریں اور دنیا کو بھی اس سے آگاہ کریں۔ظاہری دنیا وی اخلاق رکھنے والے جن کا خدا کا خانہ خالی ہے ان کا حال تو حضرت خلیفہ ثانی نے ایک دفعہ یوں بیان فرمایا تھا کہ ایک مجلس ہوئی جس میں بہت پڑھے لکھے لوگ اور بڑے با اخلاق اور بڑے معاشرے کے اعلیٰ اخلاق کے کہلانے والے اور سوبر (Sober) کہلانے والے لوگ تھے۔اس مجلس میں دوستوں نے کہا کہ ہم تکلف، تصنع اور رکھ رکھاؤ سے تنگ آ گئے ہیں۔یہ ضرورت سے زیادہ تکلف شروع ہو گیا ہے۔اس تکلف نے ہماری زندگیاں اجیرن کر دی ہیں تو آج کی اس مجلس میں جو دوست بیٹھے ہیں یہ بے تکلف ہونی چاہیئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سمجھا کہ دائرہ اخلاق میں رہتے ہوئے بے تکلفی کی مجلس ہو گی۔لیکن فرماتے ہیں کہ وہاں ایسا طوفان بدتمیزی تھا اور اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں تھیں کہ وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔کچھ عرصہ ہوا مجھے بھی ایک عزیز نے بتایا کہ پاکستان میں جو بظاہر پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ ہے یا کہلاتا ہے۔ان ہے۔ان کی مجالس میں اتنی اخلاق سوز اور بے ہودہ حرکتیں ہوتی ہیں کہ ان مجالس میں کوئی احمدی تو کیا وہاں کوئی بھی شریف آدمی جس میں ذرا بھی شرافت ہو نہیں بیٹھ سکتا۔تو ان لوگوں کی یہ حرکتیں تو ہوں گی کیونکہ معبود حقیقی سے دور جانے والے ہیں۔