خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 484
484 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پس فتح مکہ اور آنحضرت ﷺ کی زندگی میں عرب کے وسیع علاقہ میں بلکہ باہر تک بھی اسلام کا پھیل جانا اُس معبود حقیقی کے عزیز ہونے کا بڑا روشن نشان ہے جس کی عبادت آنحضرت ﷺ نے کی اور اپنے ماننے والوں سے کروائی اور پھر وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنے والے بنے۔وہ شریک جو کفار نے اللہ تعالیٰ کے بنا کر خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے تھے ، وہ تو ان کے کچھ کام نہیں آسکے۔غلبہ تو اسی عزیز خدا کو حاصل ہوا جس کی عبادت میں حکمت ہے۔بتوں کی عبادت میں کیا حکمت ہو سکتی ہے۔اگر ہے تو اللہ تعالیٰ کا چیلنج ہے کہ دکھاؤ۔لیکن نہیں دکھا سکتے۔کوئی بھی شریک جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ہے جس کو تم طاقتور سمجھتے ہو اس کی طاقت کا اظہار تو کر کے دکھاؤ لیکن نہیں کر سکتے۔پھر آنحضرت ﷺ کا دور ختم نہیں ہو گیا۔آپ کی وفات کے بعد یا آپ کے خلفاء کی وفات کے بعد ہر صدی میں اللہ تعالیٰ کی حکومت دلوں میں قائم کروانے اور بچے اور واحد و یگانہ خدا کی پہچان کروانے کے لئے مجدد پیدا ہوتے رہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت اور پیشگوئی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے۔آپ کا ابتدائی زمانہ دیکھیں کیا تھا۔اپنے گھر والوں کی عدم توجہ کا شکار۔اس لئے کہ دنیا سے بے رغبتی تھی۔اس لئے کہ صرف اور صرف معبود حقیقی سے لو لگائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بعض دفعہ گھر والے آپ کے لئے کھانے وغیرہ کا بھی کوئی خیال نہیں رکھتے تھے۔لیکن جب معبود حقیقی نے آپ کو اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے چنا تو وہی شخص جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ دیکھ لو مسجد کے کسی کونے میں پڑا ہو گا یا یہ الفاظ سننے کو ملتے تھے کہ یہ لڑکیوں کی طرح شرماتا ہے اور لوگوں کے سامنے آنے سے ڈرتا ہے۔وہی کمزور شخص معبود حقیقی کا حقیقی عبد بنا اور تمام دنیا نے اس کے علم و عرفان سے پر کلام کے وہ نظارے دیکھے کہ حیران و ششدر رہ گئے۔وہی جولڑکیوں کی طرح شرمانے والا کہلاتا تھا، جادو بیان مقرر کہلایا۔آج اس کے علم کلام کو دنیا حیرت کی نظر سے دیکھتی ہے۔کئی عرب جو انصاف کی نظر سے دیکھنے والے لوگ ہیں۔آپ کا عربی کلام پڑھ کر مجھے خط لکھتے ہیں کہ یہ کلام خدا کے کسی خاص تائید یافتہ بندے کا ہی ہو سکتا ہے۔آج اس شخص کو ماننے والے جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں یہ اس بات کا کافی ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود جس طرح چاہتا ہے اپنی بادشاہت قائم کرتا ہے۔ہمیں تو خدا تعالیٰ پاک لوگوں سے تعلق جڑوا کر اپنے حقیقی معبود ہونے کا فہم و ادراک دلوار ہا ہے تا کہ ہم اس معبود حقیقی کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کر کے اس کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں۔پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ عرب کے اس فانی فی اللہ کی دعائیں ہی تھیں جس نے ہزاروں لاکھوں مردے زندہ کر دیئے اور آج بھی اس فانی فی اللہ کے عاشق صادق کی دعائیں ہی ہیں جو جماعت کی ترقی کا باعث بن رہی ہیں اور اگر ہماری کسی کوشش میں کوئی پھل لگ رہا ہے تو ان دعاؤں کے طفیل ہی لگ رہا ہے اور ہم مفت میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنے والے کہلا رہے ہیں۔لیکن ہم یہ پھل اس وقت تک کھاتے رہیں گے جب تک ہم