خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 486
486 خطبہ جمعہ 23 /نومبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم اس کی پہچان کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔معبود حقیقی کی بادشاہت تو اس وقت قائم ہوگی جب نیکی اور تقوی قائم ہوگا یا اس کی بادشاہت قائم کرنے والے تب کہلا سکیں گے جب اعلیٰ اخلاق، دنیاوی اخلاق کے ساتھ دینی اخلاق کے بھی اعلیٰ معیار حاصل ہوں گے، عبادتوں کے بھی اعلیٰ معیار حاصل ہوں گے۔پس اس زمانے میں بھی با اخلاق اور باخدا بننے والے وہی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کر کے پھر اس کے حقیقی حسن کو سمجھا اور دیکھا ہے اور آج بھی ہمیں حقیقی کا میابیاں اُسی وقت حاصل ہوں گی جب ہم باخدا انسان بنے کی کوشش کریں گے۔معبود حقیقی کو پہچانیں گے۔پس اپنے مقصد کے حصول کے لئے ہر احمدی کو اس اصل کو پکڑنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری کامیابی ، ہماری ترقی چاہے انفرادی ہو، چاہے جماعتی ہو اس کا راز معبود حقیقی کی عبادت میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے صفت عزیز کے ذکر میں قرآن کریم میں اس طرف توجہ دلائی ہے۔تمام انبیاء کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے اور آج بھی مومنین کی ترقی اسی سے وابستہ ہے۔اس وقت میں قرآن کریم کی چند آیات پیش کرتا ہوں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے معبود حقیقی ہونے کے ساتھ صفت عزیز کا ذکر فرمایا ہے۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے آل عمران کی 19 ویں آیت ہے۔ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انصاف پر قائم رہتے ہوئے شہادت دیتا ہے کہ اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور فرشتے بھی اور اہل علم بھی یہی شہادت دیتے ہیں کوئی معبود نہیں مگر وہی کامل غلبہ والا اور حکمت والا۔اس آیت سے پہلے کی آیات میں بھی ایمان لانے والوں کے استغفار کا بیان ہے اور پھر یہ کہ وہ صبر کرنے والے ہیں۔سچ بولنے والے ہیں۔فرمانبردار ہیں۔اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں اور راتوں کو اٹھ کر اپنے معبود حقیقی کے آگے استغفار کرتے ہوئے جھکنے والے ہیں۔پس ایسے لوگ ہیں جو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانتے ہیں اور اس کی بادشاہت اپنے دلوں میں قائم کرتے ہیں اور دنیا میں بھی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔پس یہ گواہی جو اللہ نے دی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے یہ گواہی فرشتے بھی دیتے ہیں اور علم رکھنے والے بھی دیتے ہیں۔یہ یونہی گواہی نہیں ہے اللہ تعالیٰ یہ بات انصاف کے ساتھ کر رہا ہے۔علم رکھنے والے کون لوگ ہیں جو گواہی دے رہے ہیں؟ یہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں اسی طرح انبیاء کی تعلیم کو حقیقی طور پر ماننے والے ہیں۔ایسے لوگ جو خدائے واحد کی پرستش نہیں کرتے وہ چاہے جتنا بھی اپنے آپ کو اہل علم کہیں ، اپنے آپ کو عقل و شعور والا کہیں ، اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ وہ دنیا وی آنکھ رکھنے والے تو ہیں لیکن دین کی آنکھ ان کی اندھی ہے۔اپنے مقصد پیدائش کو وہ بھولنے والے ہیں۔جو یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ کسی نبی نے کہا کہ مجھے خدا کے برابر ٹھہراؤ وہ جھوٹے ہیں کیونکہ سب سے زیادہ اولوا علم تو انبیاء ہوتے ہیں اور وہ کبھی یہ حرکت نہیں کر سکتے۔پس یقینا یہ الزام جو حضرت عیسی پر لگایا جاتا ہے یہ بعد میں آنے والوں کا الزام ہے جو آپ کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے برابر