خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 434
434 خطبه جمعه 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم میں جو مرضی عمل کرتا چلا جاؤں، مجھے اس کی کوئی سزا نہیں ملنی چاہئے۔اس دنیا میں بھی انسان قانون بناتا ہے تو اس جزا سزا کے قانون کو اپنے سامنے رکھتا ہے جو اس دنیا میں ہے، ان کی احتیاطیں کرتا ہے لیکن خدا جو عزیز ہے، غالب ہے، قدرتوں والا ہے، قدیر ہے، اس کو یہ لوگ پابند کرنا چاہتے ہیں کہ نہیں، خدا تعالیٰ کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہئے اور پھر اس نظریے کا پرچار کیا جاتا ہے۔اسلام کے خلاف غلط باتیں منسوب کی جاتی ہیں۔لیکن جو اسلام پر اعتراض کرنے والے عیسائیوں میں سے ہیں وہ جو دلیل پیش کرتے ہیں، وہ یہ ہے ) کہ اپنے گناہوں کا کفارہ دوسرے سے کرائیں جو کسی طرح بھی حکمت کی بات نظر نہیں آتی۔کیا دنیا کے قانون میں اس کو مانتے ہیں کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔اگر یہ چیز اپنے دنیاوی قانون میں نہیں ہے تو پھر یہ احمقانہ نظر یہ خدا تعالیٰ کے قانون میں کیوں ٹھونسنا چاہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کی بھی ہے کیونکہ وہ مالک ہے اس لئے اس کی مرضی ہے کہ اس کے باوجود کہ بندہ کو اپنے کئے کی سزا مل سکتی ہے، وہ بخشنے کی طاقت اور قدرت بھی رکھتا ہے۔دنیاوی قانون تو اگر قصور ہے تو اس کی سزا دے گا لیکن اللہ تعالیٰ قصوروں کو بخشنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اور اس نے یہ اعلان کیا ہے کہ میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔تو اسلام کا خدا با وجود عزیز ہونے کے باوجود تمام طاقتیں اور قوتیں رکھنے کے، غالب ہونے کے پھر رحمت اور بخشش کی نظر سے ہی اپنے بندے کو دیکھتا ہے، سوائے اس کے کہ بندہ حد سے زیادہ زیادتیوں اور ظالموں پر تلا ہوا ہو۔تمام انبیاء کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب ظلم اور زیادتی حد سے بڑھ گئے تب اللہ تعالیٰ کا عذاب یا پکڑ آئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے سوچا کہ دوزخ کے سات دروازے کیوں ہیں اور جنت کے آٹھ دروازے کیوں ہیں۔تو مجھے سمجھایا گیا کہ جنت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک زائد دروازہ بخشش کا رکھا ہوا ہے۔تو اللہ تعالیٰ با وجود غالب ہونے کے بخشش بھی اپنے بندوں مخلوق اور انسانوں پہ بہت کرتا ہے۔پس کیا ایسے بخشنہا راور بندوں کی ربوبیت اور رحمانیت کرنے والے خدا کا تصور جابر اور ظالم کا ہو سکتا ہے؟ یہ معترضین کی کم عقلی اور کم علمی ہے۔اسلام کا خدا کا تصور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اللہ کے نام میں ہے جو تمام صفات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آجکل تو حید اور ہستی الہی پر بہت زور آور حملے ہور ہے ہیں۔عیسائیوں نے بھی بہت کچھ زور مارا اور لکھا ہے لیکن جو کچھ کہا اور لکھا وہ اسلام کے خدا کی بابت ہی لکھا ہے ، نہ کہ ایک مردہ مصلوب اور عاجز خدا کی بابت۔ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ہستی اور وجود پر قلم اٹھائے گا اس کو آخر کا راسی خدا کی طرف آنا پڑے گا جو اسلام نے پیش کیا ہے کیونکہ صحیفہ فطرت کے ایک ایک پتے میں اس کا پستہ ملتا ہے اور بالطبع انسان اسی خدا کا نقش اپنے اندر رکھتا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحه (52