خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 435
435 خطبہ جمعہ 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم گزشتہ جمعہ کو میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کا ذکر کیا تھا یعنی ایسا خدا جو قوی ہے اور غالب ہے اور سب طاقتوں کا مالک ہے، اسے کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔آج اس اعتراض کے حوالے سے دوبارہ اسی صفت کا ذکر کروں گا خدا با وجود عزیز ہونے کے نہ سزادینے میں جلد باز ہے، نہ اپنے بندے کی پکڑ کے انتظار میں رہتا ہے۔جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، یہاں یہ بھی بتادوں کہ صفت عزیز کا جب قرآن کریم میں ذکر آیا ہے۔تو جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بھی بتایا تھا کہ سوائے چند ایک مقامات کے دوسری صفات کے ساتھ ذکر ہے اور جب صفت عزیز کا استعمال ہوا ہے تو نصف جگہ تقریباً عزیز کے ساتھ حکیم کی صفت کا استعمال ہوا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی یہ صفت بھی ہر فیصلہ حکمت کے ساتھ کرتی ہے، اور پھر صفت عزیز کا استعمال صفت رحیم کے ساتھ ہوا ہے، صفت حمید کے ساتھ ہوا ہے، وہاب کے ساتھ ہوا ہے، غفور کے ساتھ ہوا ہے اور کریم کے ساتھ ہوا ہے۔اور جہاں صفت عزیز کے ساتھ سزا دینے یا اپنے قومی یا ذو انتقام ہونے کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، یعنی انتقام لینے والا ، سزا دینے والا یا قومی کا اظہار ہوا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے وجوہات بیان فرمائی ہیں کہ کیوں اللہ تعالیٰ انتقام لیتا ہے، کیوں سزا دیتا ہے، یا طاقت کا اظہار کرتا ہے ، اور یہ ذکر کل دس بارہ جگہ ہوا ہے۔پس اگر کوئی انصاف کی آنکھ سے دیکھے، اپنے ماحول پر نظر ڈالے، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت پر غور کرے، تو سوال ہی نہیں کہ رحیمیت کی طرف توجہ پیدا نہ ہو اور جو اس حد تک بغاوت پر آمادہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی پہچان ہی نہیں کرنا چاہتا تو اللہ تعالی با وجود عزیز ہونے کے فرماتا ہے کہ اس کی سزا اُس کو اگلے جہان میں دوں گا۔مرنے کے بعد اس سے معاملہ کروں گا۔سوائے ان کے جنہوں نے انبیاء کے ماننے والوں کے ساتھ زیادتی کی ، انبیاء کے ساتھ زیادتی کی ، ان کا جینا اجیرن کر دیا ہے، معاشرے کی زندگی اجیرن کر دی انہیں اس دنیا میں بھی سزا ملتی رہی۔پس جو اللہ تعالیٰ کا قانون توڑے اور حد سے بڑھنے والا ہو، اس کے پیاروں سے استہزاء کرنے والا ہو تو پھر اللہ تعالیٰ اس لئے پکڑ کرتا ہے تا کہ جو قوم اس طرح کر رہی ہے ان میں سے اگر کسی کی اصلاح ہو سکتی ہے تو اصلاح ہو جائے یا بعد میں آنے والی قو میں بھی ان سے عبرت پکڑیں اور اپنے انبیاء کا استہزاء نہ کریں۔ان کے لئے ایسا عبرت کا نمونہ ہو جو ان کی اصلاح کا باعث بنے۔پس ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ ذ وانتقام اور قوی ہونے کا اظہار کرتا ہے تاکہ دنیا کو پتہ لگے کہ خدا عزیز ہے، اس کو یا اس کے پیاروں کو یا اس کے ماننے والوں کو مغلوب نہیں کیا جاسکتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیرا ایسے لوگوں کو بھسم کر دیا کرتی ہے۔اس کی چند مثالیں میں قرآن کریم سے دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے کہ مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَانْزَلَ الْفُرْقَانَ إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوا بِايْتِ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ۔وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ (آل عمران : 5) یعنی ان سے پہلے لوگوں کے لئے ہدایت کے طور پر اور اُسی نے فرقان نازل کیا۔یقیناًوہ