خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 433 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 433

433 خطبہ جمعہ 26 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم جاندار کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنائی ، اس کے مناسب حال جن قوتوں اور طاقتوں کی ضرورت تھی وہ اسے مہیا کی گئیں، جس میں جسم کی بناوٹ اور اعضاء وغیرہ بھی شامل ہیں۔مثلاً پرندے ہیں۔ہوا میں اڑتے ہیں۔ان کے جسم کی بناوٹ ایسی ہے کہ اونچا اڑنے والے، زیادہ سفر کرنے والے جو پرندے ہیں، جن کو تیز ہوا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کے سامنے کا سینہ انتہائی مضبوط بنایا گیا ہے، بڑا لمبا لمبا سفر کر کے مرغابیاں اور دوسرے پرندے دُور دراز علاقوں سے آتے ہیں۔اسی طرح دوسری مخلوق ہے تو آپ فرماتے ہیں کہ اسی طرح انسان کے مناسب حال طاقتیں عنایت کی ہیں۔انسان کو خدا تعالیٰ کی رحمانیت سے سب سے زیادہ حصہ ہے، کیونکہ ہر ایک چیز اس کی کامیابی کے لئے قربان ہو رہی ہے۔پھر فرماتے ہیں کہ " تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی ، جو تیسرے درجے کا احسان ہے، رحیمیت ہے۔قرآن شریف کی اصطلاح کے رو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضییع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔یہ احسان صرف انسان کے لئے ہے ربوبیت اور رحمانیت سے تو دوسری مخلوق بھی فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن رحیمیت صرف اور صرف انسان کے لئے مخصوص ہے اور اگر اس سے انسان فائدہ نہ اٹھائے ، اپنے رحیم خدا کونہ پہچانے تو وہ بھی جانوروں اور پتھروں کی طرح ہے۔آپ فرماتے ہیں، چوتھا احسان سورۃ فاتحہ میں فقرہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین میں بیان فرمایا گیا ہے۔فرمایا کہ اس میں اور صفت رحیمیت میں یہ فرق ہے کہ رحیمیت میں دعا اور عبادت کے ذریعہ سے کامیابی کا استحقاق قائم ہوتا ہے۔رحیمیت میں انسان اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے، دعا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر اس کو کامیابی عطا فرماتا ہے۔اس کی دعائیں سنتا ہے اور صفت مالکیت یوم الدین کے ذریعہ سے وہ ثمرہ عطا کیا جاتا ہے۔(تفسیر سورة الفاتحه از حضرت مسیح موعود جلد اول صفحه 83 تا (85) یعنی ان دعاؤں کا پھر پھل ملتا ہے۔پس اسلام کا تو یہ خدا کا تصور ہے کہ اس کی بنیادی صفات کو پہچانو تو اس کا حسن اور اس کا احسان ایک انسان پر ظاہر ہو جاتا ہے اور ایک مومن اپنے خدا کی صفات کا مزید فہم و ادراک حاصل کرتا ہے۔اگر مَالِكِ يَوْمِ الدِّين فرمایا ہے تو بندے پر چھوڑا ہے کہ اس کے حسن واحسان کو دیکھتے ہوئے اس کی صفات کو سمجھ کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر نیک اعمال بجالاؤ گے ، دعا اور عبادت کرو گے تو نیک جزا پاؤ گے۔اگر بد اعمال کرو گے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکلے گا۔لیکن فرمایا کہ سزا جو تمہیں ملے گی، ہر عمل کا بدلہ اس کے مطابق ملتا ہے اللہ تعالی ظلم نہیں کرتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کو پہچانو اور اس سے اس کی جزا اور انعام حاصل کرنے کے لئے اس کی طرف جھکو، یہ نہ ہو کہ گنا ہوں میں دھنستے چلے جاؤ اور پھر سزا ملے اور پھر کہو کہ اسلام کا خدا سزا دینے والا ہے۔خدا کو بھلا دو، اس کے آگے نہ جھکو اور پھر یہ کہو کہ خدا نے ہم پر رحم کیوں نہیں کیا ؟ اسلام کا خدا ایک طرف کہتا ہے کہ میں رحمن ہوں ، دوسری طرف ہم پر رحم نہیں کر رہا۔