خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 413

413 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم کی کوشش، اللہ سے اس کی مغفرت طلب کرنا اور جو عبادات مقرر کی گئی ہیں ان کو ادا کرنا ہے اور یہی ہے جو چھوٹی موٹی برائیوں کا کفارہ بن سکتا ہے۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔اللہ فرماتا ہے ، ترجمہ اس کا یہ ہے اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب جمعہ کے دن ایک حصہ میں نماز کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھا کرو اور تجارت چھوڑ دیا کرو۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔پس جب نماز ادا کی جاچکی ہو تو زمین میں منتشر ہو جاؤ اور اللہ کے فضل میں سے کچھ تلاش کرو اور اللہ کو بکثرت یاد کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔اور جب وہ کوئی تجارت یا دل بہلا وا دیکھیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے اور تجھے اکیلا کھڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔تو کہہ دے کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ دل بہلاوے اور تجارت سے بہت بہتر ہے اور اللہ رزق عطا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ جمعہ کے دن جب تمہیں نماز کے لئے بلایا جائے تو فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ۔اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرتے ہوئے بڑھو۔تمہارے لئے سب سے مقدم جمعہ ہونا چاہئے کیونکہ یہی عبادت ہے جس سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہوتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ : جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں ایک مسلمان اللہ تعالیٰ سے نماز پڑھتے ہوئے جو بھی بھلائی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو وہ عطا کر دیتا ہے اور اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ گھڑی اور وقت بہت مختصر ہے (بخارى كتاب الجمعة باب الساعة التى فى يوم الجمعة حديث نمبر (935 جیسا کہ ہم نے دیکھا، اس سے مراد جمعہ کی نماز ہے اور خطبہ بھی نماز کا حصہ ہے۔تو یہ جمعہ کا مقام ہے کہ دعا کی قبولیت کی ایک گھڑی ہے جس میں تم جو خیر اللہ سے طلب کرو، اللہ عطا فرماتا ہے۔پس تم یہ نہ سمجھو کہ تمہاری تجارتیں تمہیں فائدہ پہنچا رہی ہیں۔تمہیں کیا ضمانت ہے کہ اگر تم تجارت کی خاطر جمعہ کی نماز چھوڑ و تو ضرور تمہیں اس میں تمہاری تو قعات کے مطابق فائدہ ہوگا اور نفع ہوگا۔لیکن اللہ کا رسول ﷺ اس بات کی تمہیں اطلاع دیتے ہیں کہ اگر اس دن ان اوقات میں تم اللہ سے خیر اور بھلائی طلب کر رہے ہو تو وہ تمہیں ضرور ملے گی بشرطیکہ تم کبائر سے بچنے کی شرط بھی پوری کر رہے ہو۔پس یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ جب ایک مسلمان کو ، ایک مومن کو ، جمعہ کی نماز پر بلایا جائے تو جلدی کرو اور تجارتیں چھوڑ دو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔کہیں نہیں فرمایا کہ رمضان کے آخری جمعہ کے لئے تو تجارتیں چھوڑ دو کیونکہ اس میں خاص طور پر دعائیں قبول ہوں گی اور باقی جمعوں کو تجارتوں کی خاطر چھوڑ بھی دیا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔