خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 412
خطبات مسرور جلد پنجم 412 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے تو ہمیں نیکیوں پر قائم رہنے کی ، ان میں دوام اختیار کرنے کی ، ان میں ایک با قاعدگی اور تسلسل رکھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا کہ یہ تسلسل اگر رہے گا تو اللہ تعالیٰ غلطیوں اور کوتاہیوں سے صرف نظر فرماتا رہے گا اور ایسے انسان کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے جس کا یہ عمل ہوگا۔اس بارہ میں ایک حدیث میں آتا ہے ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر انسان کبائر گناہ سے بچے تو پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور رمضان سے اگلا رمضان ان دونوں کے درمیان ہونے والی لغزشوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔(الترغيب والترهيب جلد اول۔كتاب الجمعة۔الترغيب فى صلوة الجمعة والسعى اليها و ما جاء في فضل يومها و ساعتها حديث نمبر (1031) یعنی پہلی بات تو یہ یاد رکھو اور ہمیشہ یاد رکھو اور ذہن سے اس چیز کو نکال دو کہ سارا سال جو چاہے انسان کرتا رہے ، جانتے بوجھتے ہوئے گناہوں میں ملوث رہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرے، ان سے بے اعتنائی برتے تو پھر بھی جمعتہ الوداع کے دن اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف کر دے گا یا جمعۃ الوداع گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جائے گا۔یا بعض سمجھتے ہیں کہ ایک حج کر لیا تو پاک ہو گئے اور اب پھر سے وہی دھو کے اور فتنے اور فساد کی اجازت مل گئی ہے۔حکم ہے کہ کہائر سے بچیں۔بڑے بڑے گناہوں کی بہت سی مثالیں ہیں۔دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف یتیموں کا مال کھانا بھی کبائر میں ہے۔جو کام انسان خود نہیں کرتا دوسروں کو کہنا کہ یہ کرو یہ بھی غلط ہے۔آپس میں دوگروہوں کو لڑا دینا، دو آدمیوں کے تعلقات خراب کر کے فتنہ پیدا کرنا بھی کبائر میں سے ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔تو ایک مومن جس کو اللہ کا خوف ہو، صرف یہ نہیں سمجھتا کہ چوری نہیں کی ، زنا نہیں کیا، ڈاکہ نہیں ڈالا قتل نہیں کیا تو یہی بڑے گناہ ہیں، ان سے بچ گیا تو گویا میرا معاملہ صاف ہو گیا۔نہیں، بلکہ دھو کے سے کسی کا مال کھانا ، چاہے وہ کسی شخص کا کھا رہا ہو یا حکومت کا کھا رہا ہو ، پھر آپس میں دو دوستوں میں پھوٹ ڈلوانا تعلقات خراب کرنا یہ سب باتیں اور اسی قسم کی اور باتیں بھی کبائر گناہ ہیں۔پس جب انسان ایک کوشش کے ساتھ ان برائیوں سے بچے گا ، اگر غلطی سے کوئی حرکت ہو جاتی ہے تو استغفار کرے گا تو فرمایا کہ پھر پانچ نمازیں جو سنوار کر ادا کی ہوئی نمازیں ہیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ اور رمضان سے اگلے رمضان کے درمیان جو چھوٹی موٹی لغزشیں تمہارے سے ہو جائیں گی، انسان کمزور ہے، کمزوروں سے ہو جاتی ہیں، ایسی باتیں جو جان بوجھ کر کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے نہ کی گئی ہوں ، ان سے اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے گا ، ان کو معاف فرمائے گا اور یہ نمازیں اور یہ جمعہ اور یہ رمضان جنہیں نیکیوں کے حصول کے لئے اور برائیوں سے بچتے ہوئے ایک انسان ادا کرے گایا ادا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو پھر یہ چھوٹی موٹی لغزشوں کا کفارہ بن جائیں گی۔تو دیکھیں آنحضرت نے کہیں نہیں فرمایا کہ جمعتہ الوداع معافی کے سامان پیدا کرے گا۔بلکہ پہلے نیک اعمال