خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 414
خطبات مسرور جلد پنجم 414 خطبہ جمعہ 12 اکتوبر 2007ء آنحضرت ﷺ نے ہمیں جمعہ کی اہمیت بلکہ اس کے فرض ہونے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ ضرور فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا ایسا حق ہے جو واجب ہے ، سوائے غلام ، عورت، بچے اور مریض کے۔(سنن دارقطني ، كتاب الجمعة باب من تجب عليه الجمعة حديث نمبر 1561 ) یہ سب لوگ معذور ہیں، مجبور ہیں اور مجبوری کے زمرے میں آتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے۔جہاں جائز عذر ہے وہاں چھوٹ بھی دی ہوئی ہے لیکن دنیا داری کو خدا کے مقابلے پر کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی برداشت ہو سکتا ہے۔حدیث کے الفاظ ہیں کہ الْجُمُعَةُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ - لغت والے حق جب اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارہ میں ہو تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ ایسا قول یا عمل جو اس طرح ہو کہ جس طرح پر اس کا ہونا ضروری ہے اور جس وقت اس کا ہونا ضروری ہے۔اور واجب یہاں ان معنوں میں آئے گا کہ یہ ایسا فرض ہے کہ جس کے نہ کرنے سے انسان قابل ملامت سمجھا جائے۔پس یہ الفاظ جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔یعنی جمعہ کی نماز ایک ایسا فرض ہے جس کی ادائیگی اس کا حق ادا کرتے ہوئے اس کے مقررہ وقت پر کی جائے ورنہ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں مسلمان اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئے گا ، قابل ملامت ہوگا۔پس جمعہ کا چھوڑنا یا اس کو کوئی اہمیت نہ دینا، بڑا ہی فکر کا مقام ہے۔پھر اللہ تعالیٰ دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ جب تم نے اپنی تجارت پر ، اپنے کاروبار پر جمعہ کو اہمیت دی، جب تم نے میرے اس مقرر کردہ فریضے کی ادائیگی میں اپنے مادی مفاد کی کچھ پرواہ نہیں کی، تو یہ نہ سمجھو کہ میں نے تمہارا یہ عمل بغیر کسی انعام کے چھوڑا ہے نہیں، بلکہ اب جبکہ تم نے یہ فریضہ ادا کر دیا ہے تو اپنے کاروباروں میں ، اپنی تجارتوں میں بیشک مصروف ہو جاؤ۔اب ان کاموں میں تمہاری اس عبادت اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل رکھ دیا ہے۔اب تم دنیا کی منفعتیں حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں برکت پاؤ گے۔لیکن ان کاروباروں کے دوران بھی تم اللہ کا ذکر کرتے رہنا، اسے بھول نہ جانا۔اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بنے رہنا۔تمہاری توجہ اس طرف رہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کاروبار پر فضل فرمایا ہے تو میں اس کے احکامات کی تعمیل پہلے سے بڑھ کر کروں گا۔کاروباروں کو ہوشیار یوں، چالاکیوں سے نا جائز منافعوں کا ذریعہ نہ بناؤ۔اللہ کا جب حقیقی ذکر ہوگا تو خدا کا خوف بھی ہمیشہ رہے گا اور جب خدا کا خوف رہے گا ، اس کے ذکر سے زبان تر رہے گی تو یہی چیز پھر تمہاری آئندہ کامیابیوں کا پیش خیمہ ہوگی۔پھر تمہارے پر اس کی طرف سے مزید کامیابیوں اور فلاح کے دروازے کھلیں گے۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لیکن جو لوگ میرے اس حکم کو سن کر بھی جمعہ کو اہمیت نہیں دیتے ، میری اس بات کو توجہ سے نہیں سنتے کہ اللہ کا ذکر کرنا ہی دراصل ہمیشہ کی فلاح کا باعث ہے بلکہ ان کے دل دنیا کی تجارتوں اور لہو ولعب میں ہی