خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 287 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 287

خطبات مسرور جلد پنجم 287 (28) خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء فرموده مورخہ 13 جولائی 2007 (13 روفا1386 ہجری شمسی ) بمقام مسجد بیت الفتوح ،لندن (برطانیہ) تشہد، تعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت مومن کا بیان ہوا تھا اور اس لفظ کی تعریف مختلف لغات اور مفسرین کے حوالہ سے بیان کی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی صفت مومن کے تحت امن دینے والا ہے اور اپنے انبیاء کی تصدیق کرنے والا ہے ، ان کی تائید میں نشانات و معجزات دکھانے والا ہے۔اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء پر ایمان لے آئے تو وہ اپنی مخلوق کو ہر شر سے امن میں رکھتا ہے اور دنیا و آخرت میں ان ایمان لانے والوں کو طمانیت قلب عطا فرماتا ہے، اپنے انعامات سے نوازتا ہے اور اپنے مومن بندوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے فیض پانے کے لئے مومن بننا ہوگا۔مومن بننے کے لئے کیا لوازمات ہیں؟ کون کون سی شرائط ہیں جن پر پورا اتر کر ایک انسان حقیقی مومن بن سکتا ہے؟ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ مومن کی مختلف خصوصیات بیان فرمائی ہیں کہ ایک مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے فیض پانے کے لئے ایمان کے مدارج طے کرتے ہوئے ان باتوں کو اپنائے گا تو وہ حقیقی مومن کہلائے گا اور فیض پانے والا ہو گا۔قرآن کریم کے شروع میں ہی مومن کی تعریف کا بیان شروع ہو گیا ہے۔فرما یا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُوْنَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ (البقرة:4-5) مومن کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لانے والا ہے۔اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ نمازوں کو قائم کرنے والا ہے۔تیسری بات اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا ہے یا جو اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں ان کے مطابق خرچ کرنے والا ہے۔چوتھی خصوصیت ، آنحضرت ﷺ پر جو تعلیم اتری، اللہ تعالیٰ کی شریعت اتری اس پر ایمان لانے والا اور پانچویں یہ کہ پہلے انبیاء پر ایمان لانے والا اور چھٹی بات یہ کہ آخرت پر یقین کرنے والا ہے۔یعنی وہ باتیں جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ہوں گی۔ان پر یقین کرنا۔