خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 288
288 خطبہ جمعہ 13 جولائی 2007ء خطبات مسرور جلد پنجم پہلی بات یا خصوصیت جو ایک مومن کی بیان فرمائی گئی ہے وہ غیب پر ایمان ہے، اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کہ وہ سب قدرتوں والا ہے۔جب یہ کامل ایمان ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اپنے وجود کا پتہ ایک سچے مومن کو مختلف طریقوں سے دیتا ہے۔اسی طرح فرشتوں پر ایمان ہے، مرنے کے بعد کی زندگی پر ایمان ہے، یہ سب ایمان کی مثالیں ہیں۔پھر غیب پر ایمان یہ ہے کہ ہر حالت میں اپنے ایمان کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا۔نیک اعمال جو کرنے ہیں وہ کسی کو دکھانے کے لئے نہیں کرنے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہر حالت میں مجھے دیکھ رہا ہے، ان پر عمل کرنا ہے۔دشمنوں کا خوف یا کسی قسم کی روک یا نفسانی لالچیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے نہ روکیں۔یہ ایمان کی مضبوطی کی پہلی شرط ہے۔مومن ہونے کے لئے دوسری اہم شرط نمازوں کا قیام ہے۔نمازوں کا قیام یہ ہے کہ ایک توجہ کے ساتھ اپنی نمازوں کی نگرانی رکھنا، ان میں با قاعدگی اختیار کرنا کیونکہ اگر نمازوں میں باقاعدگی نہیں ہے، کبھی پڑھی کبھی نہ پڑھی ،کبھی نیند آرہی ہے تو عشاء کی نماز ضائع ہوگئی اور بغیر پڑھے سو گئے، کبھی گہری نیند سورہے ہیں تو فجر کی نماز پر آنکھ نہ کھلی۔بعض لوگ نماز چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ اگر وقت پر آنکھ نہیں بھی کھلی تو جب بھی آنکھ کھلے فجر کی نماز پڑھنی چاہئے۔سورج نکلے پڑھیں گے تو گھر والوں کے سامنے بھی شرمندگی ہوگی یا اپنے آپ کو احساس ہوگا اور ضمیر ملامت کرے گا کہ اتنی دیر سے نماز پڑھ رہا ہوں اور پھر اگلے دن اس احساس سے ایک مومن وقت پر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر کام کرنے والے ہیں ، کام کی وجہ سے ظہر اور عصر کی نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن تو وہ لوگ ہیں جو نمازوں کا قیام کرتے ہیں اور قیام کس طرح کرتے ہیں ، عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُوْنَ (المعارج: 24) اپنی نمازوں پر ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔اس میں باقاعدگی رکھتے ہیں، یہ نہیں کہ کبھی نماز ضائع ہوگئی تو کوئی حرج نہیں بلکہ آگے فرمایا کہ عَلى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (المعارج: 35) نمازوں کی حفاظت پر کمربستہ رہتے ہیں۔انسان جتنی کسی عزیز چیز کی حفاظت کرتا ہے، وہ نمازوں کی حفاظت عزیز ترین شے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ایک مومن نمازوں کی حفاظت اس سے بھی زیادہ توجہ سے کرتا ہے۔اگر نماز ضائع ہو جائے تو بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ حالت ہوگی تو تب ایمان میں مضبوطی آئے گی۔پھر با قاعدہ نماز پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ اِنَّ الصَّلوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتْ بَا مَّوْقُوْتًا (النساء:104)۔یقینا نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر ادا کرنا ضروری ہے اور حقیقی مومن وہی ہیں جو نماز وقت پر ادا نہ ہو سکے تو بے چین ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں ایک شخص کی ایک دن فجر کی نماز پر آنکھ نہیں کھلی ،نماز قضاء ہوگئی ، اس کا سارا دن اس بے چینی میں اور