خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 233

خطبات مسرور جلد پنجم ملازم ہیں۔233 خطبہ جمعہ یکم جون 2007 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ سب جاندار جو تمہارے قبضے میں ہیں ان سے احسان کا سلوک کرو۔تو یہ ہے کمزور طبقے کی ، غلاموں کی عزت قائم کرنے کا اسلامی حکم کہ جن کو تم اپنا غلام سمجھتے ہو جو تمہارے ملازم ہیں ان سے بھی حتی اور ظلم نہ کرو حکم یہ ہے کہ ان سے بھی کوئی ایسا کام نہ لو جو ان کی طاقت سے باہر ہو۔اگر کوئی ایسا مشکل کام ہو تو پھر ان کا ہاتھ بٹاؤ تو یہ وہ اصول ہیں جن سے معاشرہ صلح جو اور سلامتی پھیلانے والا بن سکتا ہے۔یہی اصول ہے کہ ہر وقت ذہن میں ہو کہ میں نے احسان کرنا ہے جس سے محبتیں جنم لیتی ہیں۔جس سے ملازم بھی مالک کے لئے قربانیاں کرنے والے ہوتے ہیں۔ورنہ ملازم سے بھی اگر اس کی طاقت سے بڑھ کر کام لیا جائے تو پھر یہ ان لوگوں کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتے ہیں جو آخر کا رسلامتی کی بجائے فساد پر منتج ہوتے ہیں۔اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر اور شیخی بگھارنے والا ہو۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ یہ آخری حکم دے کر یا اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو ان باتوں پر عمل نہیں کرتا وہ متکبر ہے نہ وہ اللہ کا سچا عابد بن سکتا ہے اور پھر اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاء کو بھی قبول نہیں کرتا۔تمام انبیاء کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے۔بلکہ اس تکبر کی وجہ سے شیطان کے پیچھے چلنے والا ہوتا ہے کیونکہ شیطان نے تکبر کی وجہ سے ہی انکار کیا تھا۔تو اس زمانے میں بھی دیکھ لیں ، یہ ان لوگوں کا تکبر ہی ہے جو انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے سے روک رہا ہے یا اس راستے میں روک بنا ہوا ہے اور یہی تکبر ہے جو حقوق العباد ادا کرنے میں روک بنتا ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔یہ لوگ جو تکبر کرنے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرما چکا ہے اس لئے یہ لاکھ سلامتی کے دعوے کریں اور اس کے لئے کوشش کریں یہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔اس لئے کہ انہوں نے اس تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے امام کا انکار کیا اور اس وجہ سے اس سلامتی سے محروم ہو گئے ہیں جس کا آنا صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔سلامتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے پیاروں سے تکبر کا سلوک کرو گے، ان کا انکار کرو گے تو سلامتی سے بھی محروم ہو جاؤ گے۔پس ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس امام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائی۔اس لئے ہمیں ان باتوں پر غور کرتے ہوئے حقیقی عابد اور صحیح رنگ میں نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرنے والا بننا چاہئے۔ورنہ یہ نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی کی لپیٹ میں آجائے اور پھر ان نعمتوں سے محروم ہو جائے جو اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے پیدا کی ہیں۔ان بشارتوں سے محروم ہو جائے جو اللہ تعالیٰ نے مومن بندے کو دی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے