خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 214

خطبات مسرور جلد پنجم 214 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور سمجھاؤ کہ پہلے سلام کرو اور پھر تعارف کروا کر اور اجازت لے کر اگر اجازت مل جائے تو اندر آؤ۔اس سے ایک تو دعائیہ کلمات سے لاشعوری طور پر دماغ پاک ہو کر انسان پاکیزگی اور بہتری کی بات ہی سوچتا ہے جس سے آپس کے نیک تعلقات بڑھتے ہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب استئذان حديث : 5177) صحابہ اس دعا کی گہرائی کو جانتے تھے اور پھر جو دعا آنحضرت ﷺ کے منہ سے نکلی اس کے تو صحابہ بھوکے ہوتے تھے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ کسی صحابی کی چھوٹی عمر کی لونڈی ( لڑکی تھی وہ بازار میں کھڑی رو رہی تھی تو آنحضرت ﷺ کا اس کے پاس سے گزر ہوا۔آپ نے وجہ پوچھی کہ کیوں رو رہی ہو؟ اس نے بتایا کہ فلاں کام سے مجھے گھر والوں نے بھیجا تھا اور یہ نقصان ہو گیا ہے یا اس کا کوئی حرج ہو گیا ہے اور اب میں گھر والوں کی سختی کی وجہ سے ڈر رہی ہوں۔آپ ﷺ اس کے ساتھ ہو گئے اور اس گھر میں پہنچے۔سلام کیا لیکن اندر سے جواب نہیں آیا۔دوسری دفعہ سلام کیا پھر جواب نہیں آیا۔پھر تیسری دفعہ سلام کیا تو گھر والے باہر نکلے اور سلام کا جواب دیا تو آپ نے پوچھا کہ پہلے کیوں جواب نہیں دیا تھا، کیا میرے پہلے اور دوسرے سلام کی آواز تمہیں نہیں پہنچی تھی ؟ انہوں نے عرض کی کہ ضرور پہنچی تھی۔ان کا جواب کتنا پیارا تھا کہ آواز تو ہمیں پہنچ گئی تھی لیکن گھر والے کہتے ہیں کہ ہم تو اس موقع سے فائدہ اٹھا رہے تھے کہ آپ سے سلامتی کی دعائیں لیں۔اس سے بڑھ کر ہمارے لئے اور کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے کہ اللہ کا رسول ہم پر سلامتی کی دعا بھیج رہا ہے۔جس گہرائی سے آنحضرت ﷺ سلامتی کی دعا دیتے ہوں گے اُس تک تو کوئی نہیں پہنچ سکتا اور جن کے حق میں دعا قبول ہوتی ہو گی ان کی تو دنیا و آخرت سنور جاتی ہوگی۔گھر والے یہ بھی ادراک رکھتے ہوں گے کہ اگر تیسری دفعہ بھی جواب نہ دیا تو آنحضرت ﷺ واپس نہ چلے جائیں کیونکہ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر تین دفعہ سلام کرنے کے بعد بھی گھر والے جواب نہ دیں تو قرآنی حکم کے مطابق پھر واپس چلے جاؤ۔بہر حال اس لونڈی کے ساتھ آ کے آپ نے جہاں گھر والوں کو سلامتی کی دعاؤں سے بھر دیا وہاں اس لونڈی کو بھی آپ کی وجہ سے گھر والوں نے آزاد کر دیا اور وہ بھی اس سلامتی سے حصہ لیتے ہوئے غلامی کی قید سے آزاد ہوگئی۔صلى الله (مجمع الزاوائد و منبع الفوائد کتاب علامت النبوة باب في جوده علم جلد 8 صفحه 411-410) پھر صرف غیروں کے لئے ہی نہیں بلکہ یہ عمومی حکم بھی ہے کہ جب تم گھروں میں داخل ہو ، چاہے اپنے گھروں میں داخل ہو تو سلامتی کا تحفہ بھیجو، کیونکہ اس سے گھروں میں برکتیں پھیلیں گی کیونکہ یہ سلامتی کا تحفہ اللہ کی طرف سے ہے جس سے تمہیں یہ احساس رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے تھنے کے بعد میرا رویہ گھر والوں سے کیسا ہونا چاہئے۔