خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 213

خطبات مسرور جلد پنجم 213 خطبہ جمعہ 25 مئی 2007 ء پکڑو۔اور یہ سلام بھیجنا بھی ایک دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کے بارے میں میں آگے بیان کروں گا۔اب سلامتی پھیلانے کے لئے یہ بڑا پر حکمت حکم ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن کریم کس طرح مومنین کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ اونچی آواز میں سلام کرنے سے اجازت کا عندیہ لیا جائے گا۔اگر اجازت مل جاتی ہے تو پھر ٹھیک ہے ورنہ اگر اہل خانہ اپنی مصروفیت یا کسی اور وجوہات کی بنا پر ملنا نہیں چاہتے تو دوسری جگہ حکم ہے کہ پھر بغیر بیر امنائے واپس آ جاؤ۔ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ جواب نہ آئے تو مزید تجسس کرتے ہیں، بعض دفعہ تا کا جھانکی تک کر لیتے ہیں تو یہ بڑی بری عادت ہے۔اس سے بعض دفعہ فساد پھیلتے ہیں۔بعض بے تکلف دوست ہوتے ہیں تو بعض دفعہ بغیر آواز دیئے یا سلام کئے ایک شخص کسی دوسرے کے گھر میں بے تکلفی کی وجہ سے چلا جاتا ہے، گھر والے اُس وقت ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی داخل ہو۔اس سے پھر رنجشیں پیدا ہوتی ہیں۔اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔آج کل بھی ایسے معاملات سامنے آتے ہیں کہ ان بے تکلفیوں کی وجہ سے، ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کی وجہ سے یہ بے تکلفیاں بغیر اطلاع کے آنے سے ناراضگیوں میں بدل جاتی ہیں۔جب مرد کسی کے گھر جاتے ہیں اور جس مرد کو ملنے کے لئے گئے ہیں اگر وہ گھر پر نہیں ہے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ واپس آجائیں، اس سے سلامتی پھیلتی ہے اور دو گھر بدظنیوں سے بچ جاتے ہیں۔گھر کے دوسرے فرد یا افراد کو مجبور نہیں کرنا چاہئے کہ دروازہ کھولو، ہم نے ضرور اندر بیٹھنا ہے اور جب تک صاحب خانہ یا وہ مرد گھر نہیں آجا تا ہم اس کا انتظار کریں گے۔سوائے اس کے گھر کے کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہوں ، غیروں کا تو کوئی تعلق نہیں جتنی مرضی قریبی دوستیاں ہوں۔اس سے بہت ساری تہمتوں سے انسان بچ جاتا ہے، بہت سارے شکوک سے انسان بچ جاتا ہے۔اور دوسرے لوگوں کی باتوں سے اس گھر میں آنے والا بھی اور گھر والے بھی بیچ جاتے ہیں ، بہت سی بدظنیوں سے بچ جاتے ہیں۔تو یہ سلام پہنچانے کا طریق اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے لئے سلامتی طلب کی جائے اور سلام کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ آفات سے بچنا۔پس سلام کا یہ رواج دونوں کو ، آنے والے کو بھی اور گھر والوں کو بھی بہت سی آفتوں اور مشکلوں سے بچالیتا ہے۔آنحضرت ﷺ سلام کر کے اطلاع دینے پر اس قدر پا بندی فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بغیر جانا آپ نے سختی سے منع کیا ہوا تھا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے دروازے سے باہر کھڑے ہوکر بغیر سلام کئے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے دوسرے صحابی جو قریب بیٹھے ہوئے تھے انہیں فرمایا کہ باہر