خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 187
خطبات مسرور جلد پنجم 187 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء رہنے کا موقع ملا تو میں نے اکثر دیکھا کہ میاں وسیم احمد صاحب رات کو بیت الدعا میں یا اور جگہوں پر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعائیں کرتے رہے ہیں وہاں دعاؤں میں مشغول ہیں۔1977ء میں جیسا کہ میں نے کہا حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے آپ کو امیر مقامی اور ناظر اعلی مقرر کیا۔آپ نے اس لحاظ سے انتظامی خدمات بھی انجام دیں۔1982ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات ہوئی تو اس موقع پر بھی آپ ربوہ نہیں جاسکتے تھے آپ کی دو بڑی بیٹیوں کی تو شادیاں ہو چکی تھیں۔چھوٹی بیٹی اور بیٹا شاید آپ کے ساتھ تھے تو آپ کی بیٹی امتہ الرؤف کا بیان ہے کہ ابا کو خلافت سے بے انتہا عشق تھا اور حضور کی وفات کے اگلے روز ایک خط لے کر امی کے اور میرے پاس لائے کہ اس کو پڑھ لو اور اس پر دستخط کر دو۔یعنی اپنی اہلیہ اور اپنی بیٹی کے پاس لائے کہ دستخط کر دو۔اس میں بغیر نام کے خلیفتہ اسیح الرابع کی بیعت کرنے کے متعلق لکھا تھا۔خلیفہ مسیح الرابع لکھ کر بیعت تھی کہ یہ میں ابھی بھجوار ہا ہوں تو یہ بیٹی کہتی ہیں کہ میں نے اس پر کہا کہ ابا ابھی تو خلافت کا انتخاب بھی نہیں ہوا، ہمیں پتہ نہیں کہ کون خلیفہ بنے گا۔تو کہتے ہیں کہ میں نے خلیفہ کا چہرہ دیکھ کر بیعت نہیں کرنی بلکہ میں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام کی خلافت کی بیعت کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ جس کو بھی خلیفہ بنائے اس کی میں نے بیعت کرنی ہے۔اس لئے میں نے یہ خط لکھ دیا ہے اور میں اس کو روانہ کر رہا ہوں تا کہ خلافت کا انتخاب ہو تو میری بیعت کا خط وہاں پہنچ چکا ہو۔تو یہ تھا خلافت سے عشق اور محبت اور اس کا عرفان۔اللہ کرے ہر ایک کو حاصل ہو۔مخالفین کی طرف سے آپ پر بعض جھوٹے مقدمے بھی بنائے گئے۔بعض اپنوں نے بھی آپ کو بعض پریشانیوں میں مبتلا کیا لیکن بڑے حوصلے اور صبر سے آپ نے ہر چیز برداشت کی۔بلکہ ان مخالفین میں سے سنا ہے، اب ان کی وفات پر تعزیت کے لئے بھی لوگ آئے ہوئے تھے۔الصلوة جشن تشکر کے وقت آپ نے سارے بھارت کا دورہ کیا، جماعتوں کو آرگنا ئز کیا ، ان کو بتایا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کا دورہ ہوا۔اس وقت آپ نے ساری انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔پھر جب 2005 ء میں میرا دورہ ہوا ہے اس وقت آپ کی طبیعت بھی کافی خراب تھی، کمزوری ہو جاتی تھی، بڑی شدید انفیکشن ہو گئی۔جلسہ پہ پہلے اجلاس کی انہوں نے صدارت کرنی تھی اور بیمار تھے، بخار بھی تھا لیکن چونکہ میرے سے منظوری ہو چکی تھی تو اتفاق سے جب میں نے گھر آ کے ایم ٹی اے دیکھا تو صدارت کر رہے تھے ، میں نے پیغام بھجوایا کہ آپ بیمار ہیں چھوڑ کے آ جائیں۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے بخار ہے، میں بیمار ہوں ، بیٹھ بھی نہیں سکتا۔سخت کمزوری کی حالت تھی لیکن اس لئے کہ اجلاس کی صدارت کے لئے میری خلیفہ وقت سے منظوری ہو چکی ہے، اس لئے کرنی ہے۔خیر اس پیغام کے بعد وہ اٹھ کر آ گئے۔اس حالت میں ہی نہیں تھے کہ بیٹھ سکتے۔تو انتہائی وفا سے اپنی ذمہ داریاں