خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 186 of 587

خطبات مسرور (جلد 5۔ 2007ء) — Page 186

خطبات مسرور جلد پنجم 186 خطبہ جمعہ 4 مئی 2007 ء صدمه برا دشت کرو جیسا کہ وہ کر رہے ہیں اور تمہارا قادیان رہنا ان کے لئے موجب ڈھارس اور تسلی ہو گا۔پھر 1971ء میں دونوں ملکوں کے حالات خراب ہوئے اور بعض افسران نے قادیان کی احمدی آبادی کو زبر دستی قادیان سے نکالنے کی کوشش کی اور چھوٹے افسران نے حکم جاری کیا کہ یہ نکل جائیں اور بہانہ یہ کیا کہ ہم آپ کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، قادیان میں رہ کر ہم حفاظت نہیں کر سکتے۔اس لئے محلہ احمد یہ اور دار مسیح سب چیزیں خالی کرو تا کہ ایک جگہ ہم تم لوگوں کو جمع کر دیں اور وہاں تمہاری حفاظت کر سکیں۔اصل میں تو حفاظت مقصد نہیں تھا۔میرا خیال ہے شک کی نظر سے دیکھا جارہا تھا، بلکہ خیال کیا، بڑا واضح ہے کہ ان لوگوں کو شک کی نظر سے دیکھا جار ہا تھا۔تو اس موقع پر بھی حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے قادیان کے تمام احمدی احباب کو مسجد مبارک میں جمع کیا اور ایک بڑی پر سوز تقریر کی۔آپ نے فرمایا کہ یہ ہمارا دائمی مرکز ہے ہم اس کو قطعا نہیں چھوڑیں گے۔اُن کی نیت تو یہ تھی کہ اس طرح یہ خالی کریں گے اس کے بعد ہم جگہوں پر قبضہ کر لیں گے۔اس تقریر میں آپ نے کہا کہ یہ ہمارا دائمی مرکز ہے اس کو ہم قطعاً نہیں چھوڑیں گے آج کی ایک رات ہمارے پاس ہے، اپنی دعاؤں کے ذریعہ عرش الہی کو ہلا دیں۔اگر حکومت کا ہمارے بارے میں یہی قطعی فیصلہ ہے تو یا درکھو ایک بچہ بھی خود سے قادیان سے باہر نہ جائے گا۔ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن مقامات مقدسہ اور قادیان سے باہر نہیں نکلیں گے۔نیز فرمایا کہ آپ یادرکھیں کہ میں بھی یہاں سے خود باہر نہیں جاؤں گا اگر حکومت کے کارندے مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر لے جائیں تو لے جائیں لیکن اپنے پیروں سے چل کر نہ جاؤں گا۔آپ میں سے ہر درویش اور درویش کے بچے کی یہی پوزیشن ہونی چاہئے۔ہوسکتا ہے کہ مجھے لے جائیں اور یہ کہیں کہ ہم تمہارے میاں صاحب کو لے گئے ہیں اس لئے تم بھی چلو۔وہ مجھے لے جاتے ہیں تو لے جائیں۔آپ نہیں جائیں گے اور ہر فرد جماعت کے منہ سے بس یہی آواز نکلنی چاہئے کہ ہم قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔تو لکھنے والے کہتے ہیں کہ اس رات قادیان کے بچے بچے کی یہ حالت تھی کہ ہر شخص اس رات جس طرح خدا تعالیٰ سے آدمی لپٹ جاتا ہے، لپٹا ہوا تھا۔مسجد مبارک کا گوشہ گوشہ اور مسجد اقصیٰ کا کونہ کو نہ بہشتی مقبرے میں ہر جگہ دعائیں ہو رہی تھیں اور کہتے ہیں ہر گھر کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ درویشوں کے دلوں سے یہ نکلی ہوئی آہیں اور چھینیں آستانہ الہی پر دستک دینے لگیں۔اُن کی سجدہ گا ہیں تر ہو گئیں ، اُن کی جبینیں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکی رہیں۔سینکڑوں ہاتھ خدا تعالیٰ کے حضور اٹھے رہے اور رات اور دن انہوں نے اسی طرح گزار دیا اور آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دیا اور اگلے دن پھر کچھ وفود ملنے گئے ، فوجی افسران خود قادیان آئے اور مقامات مقدس کا معائنہ کیا،احمدیہ ملہ کا معائنہ کیا اور پھر D۔C صاحب وغیرہ کی سفارش پر یہ فیصلہ منسوخ ہو گیا۔آپ کی دعاؤں کے بارے میں وہاں رہنے والے ہمارے ایک مبلغ نے مجھے لکھا کہ مجھے کچھ عرصہ دار مسیح میں